سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

ایکسپلور پر واپس جائیں

The Servant of Allah Who Met Musa in the Quran

The Servant of Allah Who Met Musa in the Quran
واذ قال موسى لفتاه لا ابرح حتى ابلغ مجمع البحرين او امضي حقبا ٦٠ فلما بلغا مجمع بينهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله في البحر سربا ٦١ فلما جاوزا قال لفتاه اتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هاذا نصبا ٦٢ قال ارايت اذ اوينا الى الصخرة فاني نسيت الحوت وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره واتخذ سبيله في البحر عجبا ٦٣ قال ذالك ما كنا نبغ فارتدا على اثارهما قصصا ٦٤ فوجدا عبدا من عبادنا اتيناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما ٦٥ قال له موسى هل اتبعك على ان تعلمن مما علمت رشدا ٦٦
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبْرَحُ حَتَّىٰٓ أَبْلُغَ مَجْمَعَ ٱلْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِىَ حُقُبًۭا ٦٠ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ سَرَبًۭا ٦١ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَـٰذَا نَصَبًۭا ٦٢ قَالَ أَرَءَيْتَ إِذْ أَوَيْنَآ إِلَى ٱلصَّخْرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلْحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيْطَـٰنُ أَنْ أَذْكُرَهُۥ ۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ عَجَبًۭا ٦٣ قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَٱرْتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًۭا ٦٤ فَوَجَدَا عَبْدًۭا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَـٰهُ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًۭا ٦٥ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًۭا ٦٦

وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِفَتٰىهُ
لَاۤ
اَبْرَحُ
حَتّٰۤی
اَبْلُغَ
مَجْمَعَ
الْبَحْرَیْنِ
اَوْ
اَمْضِیَ
حُقُبًا
۟
فَلَمَّا
بَلَغَا
مَجْمَعَ
بَیْنِهِمَا
نَسِیَا
حُوْتَهُمَا
فَاتَّخَذَ
سَبِیْلَهٗ
فِی
الْبَحْرِ
سَرَبًا
۟
فَلَمَّا
جَاوَزَا
قَالَ
لِفَتٰىهُ
اٰتِنَا
غَدَآءَنَا ؗ
لَقَدْ
لَقِیْنَا
مِنْ
سَفَرِنَا
هٰذَا
نَصَبًا
۟
قَالَ
اَرَءَیْتَ
اِذْ
اَوَیْنَاۤ
اِلَی
الصَّخْرَةِ
فَاِنِّیْ
نَسِیْتُ
الْحُوْتَ ؗ
وَمَاۤ
اَنْسٰىنِیْهُ
اِلَّا
الشَّیْطٰنُ
اَنْ
اَذْكُرَهٗ ۚ
وَاتَّخَذَ
سَبِیْلَهٗ
فِی
الْبَحْرِ ۖۗ
عَجَبًا
۟
قَالَ
ذٰلِكَ
مَا
كُنَّا
نَبْغِ ۖۗ
فَارْتَدَّا
عَلٰۤی
اٰثَارِهِمَا
قَصَصًا
۟ۙ
فَوَجَدَا
عَبْدًا
مِّنْ
عِبَادِنَاۤ
اٰتَیْنٰهُ
رَحْمَةً
مِّنْ
عِنْدِنَا
وَعَلَّمْنٰهُ
مِنْ
لَّدُنَّا
عِلْمًا
۟
قَالَ
لَهٗ
مُوْسٰی
هَلْ
اَتَّبِعُكَ
عَلٰۤی
اَنْ
تُعَلِّمَنِ
مِمَّا
عُلِّمْتَ
رُشْدًا
۟

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) سے کہا کہ میں (چلنا) نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں یا میں برسوں چلتا ہی رہوں گا (60) پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس (مچھلی) نے اپنا راستہ بنا لیا تھا دریا میں سرنگ کی طرح (61) پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ اپنے اس سفر سے تو ہمیں بہت تکان ہوگئی ہے (62) اس (نوجوان) نے کہا : دیکھئے جب ہم ٹھہرے تھے چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی کو (نگاہ میں رکھنا) اور نہیں مجھے بھلائے رکھا مگر شیطان نے کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کروں اور اس نے تو بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے (63) موسیٰ نے کہا : یہی تو تھا جس کی ہمیں تلاش تھی پس وہ دونوں واپس لوٹے اپنے نقوش پا کو دیکھتے ہوئے (64) تو پایا انہوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو جسے ہم نے رحمت عطا کی تھی اپنی طرف سے اور اسے سکھایا تھا ایک علم خاص اپنے پاس سے (65) موسیٰ نے اس سے کہا : کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو بھلائی آپ کو سکھائی گئی ہے (66)
–سورہ الكهف [18:60-66]
قال انك لن تستطيع معي صبرا ٦٧ وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا ٦٨ قال ستجدني ان شاء الله صابرا ولا اعصي لك امرا ٦٩ قال فان اتبعتني فلا تسالني عن شيء حتى احدث لك منه ذكرا ٧٠
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًۭا ٦٧ وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ خُبْرًۭا ٦٨ قَالَ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرًۭا وَلَآ أَعْصِى لَكَ أَمْرًۭا ٦٩ قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعْتَنِى فَلَا تَسْـَٔلْنِى عَن شَىْءٍ حَتَّىٰٓ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًۭا ٧٠

قَالَ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
وَكَیْفَ
تَصْبِرُ
عَلٰی
مَا
لَمْ
تُحِطْ
بِهٖ
خُبْرًا
۟
قَالَ
سَتَجِدُنِیْۤ
اِنْ
شَآءَ
اللّٰهُ
صَابِرًا
وَّلَاۤ
اَعْصِیْ
لَكَ
اَمْرًا
۟
قَالَ
فَاِنِ
اتَّبَعْتَنِیْ
فَلَا
تَسْـَٔلْنِیْ
عَنْ
شَیْءٍ
حَتّٰۤی
اُحْدِثَ
لَكَ
مِنْهُ
ذِكْرًا
۟۠

اس نے کہا : میرے ساتھ (رہ کر) آپ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے (67) اور آپ کیسے صبر کریں گے اس چیز پر جس کی آپ کو پوری پوری خبر نہیں (68) موسیٰ نے کہا : آپ مجھے ان شاء اللہ صابر پائیں گے اور میں خلاف ورزی نہیں کروں گا آپ کے کسی حکم کی (69) اس نے کہا : اگر آپ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے خود نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتادوں (70)
–سورہ الكهف [18:67-70]
فانطلقا حتى اذا ركبا في السفينة خرقها قال اخرقتها لتغرق اهلها لقد جيت شييا امرا ٧١ قال الم اقل انك لن تستطيع معي صبرا ٧٢ قال لا تواخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا ٧٣ فانطلقا حتى اذا لقيا غلاما فقتله قال اقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جيت شييا نكرا ٧٤ ۞ قال الم اقل لك انك لن تستطيع معي صبرا ٧٥ قال ان سالتك عن شيء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني عذرا ٧٦ فانطلقا حتى اذا اتيا اهل قرية استطعما اهلها فابوا ان يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض فاقامه قال لو شيت لاتخذت عليه اجرا ٧٧ قال هاذا فراق بيني وبينك سانبيك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا ٧٨
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِى ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا إِمْرًۭا ٧١ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًۭا ٧٢ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِى مِنْ أَمْرِى عُسْرًۭا ٧٣ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَـٰمًۭا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًۭا زَكِيَّةًْ بِغَيْرِ نَفْسٍْ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْـًۭٔا نُّكْرًۭا ٧٤ ۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًۭا ٧٥ قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَىْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصَـٰحِبْنِى ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّى عُذْرًۭا ٧٦ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهْلَ قَرْيَةٍ ٱسْتَطْعَمَآ أَهْلَهَا فَأَبَوْاْ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًۭا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًۭا ٧٧ قَالَ هَـٰذَا فِرَاقُ بَيْنِى وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ٧٨

فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَا
رَكِبَا
فِی
السَّفِیْنَةِ
خَرَقَهَا ؕ
قَالَ
اَخَرَقْتَهَا
لِتُغْرِقَ
اَهْلَهَا ۚ
لَقَدْ
جِئْتَ
شَیْـًٔا
اِمْرًا
۟
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
قَالَ
لَا
تُؤَاخِذْنِیْ
بِمَا
نَسِیْتُ
وَلَا
تُرْهِقْنِیْ
مِنْ
اَمْرِیْ
عُسْرًا
۟
فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَا
لَقِیَا
غُلٰمًا
فَقَتَلَهٗ ۙ
قَالَ
اَقَتَلْتَ
نَفْسًا
زَكِیَّةً
بِغَیْرِ
نَفْسٍ ؕ
لَقَدْ
جِئْتَ
شَیْـًٔا
نُّكْرًا
۟
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكَ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
قَالَ
اِنْ
سَاَلْتُكَ
عَنْ
شَیْءٍ
بَعْدَهَا
فَلَا
تُصٰحِبْنِیْ ۚ
قَدْ
بَلَغْتَ
مِنْ
لَّدُنِّیْ
عُذْرًا
۟
فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَتَیَاۤ
اَهْلَ
قَرْیَةِ
سْتَطْعَمَاۤ
اَهْلَهَا
فَاَبَوْا
اَنْ
یُّضَیِّفُوْهُمَا
فَوَجَدَا
فِیْهَا
جِدَارًا
یُّرِیْدُ
اَنْ
یَّنْقَضَّ
فَاَقَامَهٗ ؕ
قَالَ
لَوْ
شِئْتَ
لَتَّخَذْتَ
عَلَیْهِ
اَجْرًا
۟
قَالَ
هٰذَا
فِرَاقُ
بَیْنِیْ
وَبَیْنِكَ ۚ
سَاُنَبِّئُكَ
بِتَاْوِیْلِ
مَا
لَمْ
تَسْتَطِعْ
عَّلَیْهِ
صَبْرًا
۟

پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں سوار ہوئے ایک کشتی میں تو اس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کردیں اس کے تمام سواروں کو ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے (71) اس نے کہا : میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے (72) موسیٰ نے کہا : آپ میرا مؤاخذہ نہ کیجیے میرے بھول جانے پر اور نہ ہی میرے معاملے میں زیادہ سختی کیجیے (73) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے تو اس (خضر) نے اس کو قتل کردیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے قتل کردیا ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے (بدلے کے) یہ تو آپ نے بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے (74) اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے (75) موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو (76) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے تو انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اس (خضر) نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے (77) اس (خضر) نے کہا بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے (78)
–سورہ الكهف [18:71-78]
اما السفينة فكانت لمساكين يعملون في البحر فاردت ان اعيبها وكان وراءهم ملك ياخذ كل سفينة غصبا ٧٩ واما الغلام فكان ابواه مومنين فخشينا ان يرهقهما طغيانا وكفرا ٨٠ فاردنا ان يبدلهما ربهما خيرا منه زكاة واقرب رحما ٨١ واما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما وكان ابوهما صالحا فاراد ربك ان يبلغا اشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك وما فعلته عن امري ذالك تاويل ما لم تسطع عليه صبرا ٨٢
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَـٰكِينَ يَعْمَلُونَ فِى ٱلْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌۭ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًۭا ٧٩ وَأَمَّا ٱلْغُلَـٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَآ أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَـٰنًۭا وَكُفْرًۭا ٨٠ فَأَرَدْنَآ أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًۭا مِّنْهُ زَكَوٰةًۭ وَأَقْرَبَ رُحْمًۭا ٨١ وَأَمَّا ٱلْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَـٰمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِى ٱلْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُۥ كَنزٌۭ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَـٰلِحًۭا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُۥ عَنْ أَمْرِى ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًۭا ٨٢

اَمَّا
السَّفِیْنَةُ
فَكَانَتْ
لِمَسٰكِیْنَ
یَعْمَلُوْنَ
فِی
الْبَحْرِ
فَاَرَدْتُّ
اَنْ
اَعِیْبَهَا
وَكَانَ
وَرَآءَهُمْ
مَّلِكٌ
یَّاْخُذُ
كُلَّ
سَفِیْنَةٍ
غَصْبًا
۟
وَاَمَّا
الْغُلٰمُ
فَكَانَ
اَبَوٰهُ
مُؤْمِنَیْنِ
فَخَشِیْنَاۤ
اَنْ
یُّرْهِقَهُمَا
طُغْیَانًا
وَّكُفْرًا
۟ۚ
فَاَرَدْنَاۤ
اَنْ
یُّبْدِلَهُمَا
رَبُّهُمَا
خَیْرًا
مِّنْهُ
زَكٰوةً
وَّاَقْرَبَ
رُحْمًا
۟
وَاَمَّا
الْجِدَارُ
فَكَانَ
لِغُلٰمَیْنِ
یَتِیْمَیْنِ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
وَكَانَ
تَحْتَهٗ
كَنْزٌ
لَّهُمَا
وَكَانَ
اَبُوْهُمَا
صَالِحًا ۚ
فَاَرَادَ
رَبُّكَ
اَنْ
یَّبْلُغَاۤ
اَشُدَّهُمَا
وَیَسْتَخْرِجَا
كَنْزَهُمَا ۖۗ
رَحْمَةً
مِّنْ
رَّبِّكَ ۚ
وَمَا
فَعَلْتُهٗ
عَنْ
اَمْرِیْ ؕ
ذٰلِكَ
تَاْوِیْلُ
مَا
لَمْ
تَسْطِعْ
عَّلَیْهِ
صَبْرًا
۟ؕ۠

جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی (79) رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا (80) پس ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو بدلے میں دے ان کا رب اس سے بہتر (اولاد) پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے (82)
–سورہ الكهف [18:79-82]

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔