سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

ایکسپلور پر واپس جائیں

Prophet Yusuf in the Quran

Prophet Yusuf in the Quran
ووهبنا له اسحاق ويعقوب كلا هدينا ونوحا هدينا من قبل ومن ذريته داوود وسليمان وايوب ويوسف وموسى وهارون وكذالك نجزي المحسنين ٨٤
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ٨٤

وَوَهَبْنَا
لَهٗۤ
اِسْحٰقَ
وَیَعْقُوْبَ ؕ
كُلًّا
هَدَیْنَا ۚ
وَنُوْحًا
هَدَیْنَا
مِنْ
قَبْلُ
وَمِنْ
ذُرِّیَّتِهٖ
دَاوٗدَ
وَسُلَیْمٰنَ
وَاَیُّوْبَ
وَیُوْسُفَ
وَمُوْسٰی
وَهٰرُوْنَ ؕ
وَكَذٰلِكَ
نَجْزِی
الْمُحْسِنِیْنَ
۟ۙ

اور ہم نے اسے (ابراہیم ؑ کو) عطا فرمایا اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوب ؑ (جیسا پوتا) ان سب کو ہم نے ہدایت دی۔ اور نوح ؑ کو بھی ہم نے ہدایت دی تھی ان سے پہلے اور اس (ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے داؤد ؑ سلیمان ؑ ایوب ؑ یوسف ؑ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو بھی (ہدایت بخشی)۔ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔
–سورہ الأنعام [6:84]
ولقد جاءكم يوسف من قبل بالبينات فما زلتم في شك مما جاءكم به حتى اذا هلك قلتم لن يبعث الله من بعده رسولا كذالك يضل الله من هو مسرف مرتاب ٣٤
وَلَقَدْ جَآءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّْ مِّمَّا جَآءَكُم بِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ ٱللَّهُ مِنْ بَعْدِهِۦ رَسُولًۭا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌۭ مُّرْتَابٌ ٣٤

وَلَقَدْ
جَآءَكُمْ
یُوْسُفُ
مِنْ
قَبْلُ
بِالْبَیِّنٰتِ
فَمَا
زِلْتُمْ
فِیْ
شَكٍّ
مِّمَّا
جَآءَكُمْ
بِهٖ ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
هَلَكَ
قُلْتُمْ
لَنْ
یَّبْعَثَ
اللّٰهُ
مِنْ
بَعْدِهٖ
رَسُوْلًا ؕ
كَذٰلِكَ
یُضِلُّ
اللّٰهُ
مَنْ
هُوَ
مُسْرِفٌ
مُّرْتَابُ
۟ۚۖ

اور (دیکھو !) اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف ؑ آئے تھے واضح نشانیاں لے کر لیکن تم شکوک و شبہات میں ہی پڑے رہے ان تعلیمات کے بارے میں جو وہ ؑ تمہارے پاس لے کر آئے تھے یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی اور کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا اسی طرح اللہ گمراہ کردیتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے بڑھنے والے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والے ہوں
–سورہ غافر [40:34]
اذ قال يوسف لابيه يا ابت اني رايت احد عشر كوكبا والشمس والقمر رايتهم لي ساجدين ٤ قال يا بني لا تقصص روياك على اخوتك فيكيدوا لك كيدا ان الشيطان للانسان عدو مبين ٥ وكذالك يجتبيك ربك ويعلمك من تاويل الاحاديث ويتم نعمته عليك وعلى ال يعقوب كما اتمها على ابويك من قبل ابراهيم واسحاق ان ربك عليم حكيم ٦
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ ٤ قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ٥ وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٦

اِذْ
قَالَ
یُوْسُفُ
لِاَبِیْهِ
یٰۤاَبَتِ
اِنِّیْ
رَاَیْتُ
اَحَدَ
عَشَرَ
كَوْكَبًا
وَّالشَّمْسَ
وَالْقَمَرَ
رَاَیْتُهُمْ
لِیْ
سٰجِدِیْنَ
۟
قَالَ
یٰبُنَیَّ
لَا
تَقْصُصْ
رُءْیَاكَ
عَلٰۤی
اِخْوَتِكَ
فَیَكِیْدُوْا
لَكَ
كَیْدًا ؕ
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
لِلْاِنْسَانِ
عَدُوٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
وَكَذٰلِكَ
یَجْتَبِیْكَ
رَبُّكَ
وَیُعَلِّمُكَ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ
وَیُتِمُّ
نِعْمَتَهٗ
عَلَیْكَ
وَعَلٰۤی
اٰلِ
یَعْقُوْبَ
كَمَاۤ
اَتَمَّهَا
عَلٰۤی
اَبَوَیْكَ
مِنْ
قَبْلُ
اِبْرٰهِیْمَ
وَاِسْحٰقَ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ
۟۠

جب یوسف نے اپنے والد (یعقوب) سے کہا اباجان ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں (4) یعقوب نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے یقیناً شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے (5) اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں سکھائے گا تاویل الاحادیث میں سے (علم) اور اتمام فرمائے گا اپنی نعمت کا تجھ پر اور آل یعقوب پر جس طرح اس نے اس سے پہلے اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تیرے آباء واجداد ابراہیم اور اسحاق ؑ پر یقیناً تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے (6)
–سورہ يوسف [12:4-6]
۞ لقد كان في يوسف واخوته ايات للسايلين ٧ اذ قالوا ليوسف واخوه احب الى ابينا منا ونحن عصبة ان ابانا لفي ضلال مبين ٨ اقتلوا يوسف او اطرحوه ارضا يخل لكم وجه ابيكم وتكونوا من بعده قوما صالحين ٩ قال قايل منهم لا تقتلوا يوسف والقوه في غيابت الجب يلتقطه بعض السيارة ان كنتم فاعلين ١٠
۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَـٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ ٧ إِذْ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَـٰلٍْ مُّبِينٍ ٨ ٱقْتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُواْ مِنْ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَـٰلِحِينَ ٩ قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُواْ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ ١٠

لَقَدْ
كَانَ
فِیْ
یُوْسُفَ
وَاِخْوَتِهٖۤ
اٰیٰتٌ
لِّلسَّآىِٕلِیْنَ
۟
اِذْ
قَالُوْا
لَیُوْسُفُ
وَاَخُوْهُ
اَحَبُّ
اِلٰۤی
اَبِیْنَا
مِنَّا
وَنَحْنُ
عُصْبَةٌ ؕ
اِنَّ
اَبَانَا
لَفِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنِ
۟ۚۖ
قْتُلُوْا
یُوْسُفَ
اَوِ
اطْرَحُوْهُ
اَرْضًا
یَّخْلُ
لَكُمْ
وَجْهُ
اَبِیْكُمْ
وَتَكُوْنُوْا
مِنْ
بَعْدِهٖ
قَوْمًا
صٰلِحِیْنَ
۟
قَالَ
قَآىِٕلٌ
مِّنْهُمْ
لَا
تَقْتُلُوْا
یُوْسُفَ
وَاَلْقُوْهُ
فِیْ
غَیٰبَتِ
الْجُبِّ
یَلْتَقِطْهُ
بَعْضُ
السَّیَّارَةِ
اِنْ
كُنْتُمْ
فٰعِلِیْنَ
۟

یقیناً یوسف اور آپ ؑ کے بھائیوں (کے قصے) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لیے (7) جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے والد کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں یقیناً ہمارے والد صریح غلطی پر ہیں (8) (چنانچہ) قتل کر دو یوسف کو یا اسے پھینک آؤ (دور) کسی علاقے میں تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے اور پھر اس کے بعد نیک بن جانا (9) کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہ یوسف کو قتل مت کرو اور ڈال آؤ اسے کسی باؤلی کے طاقچے میں اٹھا لے جائے گا اس کو کوئی قافلہ اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو (10)
–سورہ يوسف [12:7-10]
قالوا يا ابانا ما لك لا تامنا على يوسف وانا له لناصحون ١١ ارسله معنا غدا يرتع ويلعب وانا له لحافظون ١٢ قال اني ليحزنني ان تذهبوا به واخاف ان ياكله الذيب وانتم عنه غافلون ١٣ قالوا لين اكله الذيب ونحن عصبة انا اذا لخاسرون ١٤ فلما ذهبوا به واجمعوا ان يجعلوه في غيابت الجب واوحينا اليه لتنبينهم بامرهم هاذا وهم لا يشعرون ١٥ وجاءوا اباهم عشاء يبكون ١٦ قالوا يا ابانا انا ذهبنا نستبق وتركنا يوسف عند متاعنا فاكله الذيب وما انت بمومن لنا ولو كنا صادقين ١٧ وجاءوا على قميصه بدم كذب قال بل سولت لكم انفسكم امرا فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون ١٨
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَـٰصِحُونَ ١١ أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًۭا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ١٢ قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُواْ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَـٰفِلُونَ ١٣ قَالُواْ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًۭا لَّخَـٰسِرُونَ ١٤ فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓاْ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١٥ وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءًۭ يَبْكُونَ ١٦ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍْ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـٰدِقِينَ ١٧ وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍْ كَذِبٍْ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨

قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مَا
لَكَ
لَا
تَاْمَنَّا
عَلٰی
یُوْسُفَ
وَاِنَّا
لَهٗ
لَنٰصِحُوْنَ
۟
اَرْسِلْهُ
مَعَنَا
غَدًا
یَّرْتَعْ
وَیَلْعَبْ
وَاِنَّا
لَهٗ
لَحٰفِظُوْنَ
۟
قَالَ
اِنِّیْ
لَیَحْزُنُنِیْۤ
اَنْ
تَذْهَبُوْا
بِهٖ
وَاَخَافُ
اَنْ
یَّاْكُلَهُ
الذِّئْبُ
وَاَنْتُمْ
عَنْهُ
غٰفِلُوْنَ
۟
قَالُوْا
لَىِٕنْ
اَكَلَهُ
الذِّئْبُ
وَنَحْنُ
عُصْبَةٌ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّخٰسِرُوْنَ
۟
فَلَمَّا
ذَهَبُوْا
بِهٖ
وَاَجْمَعُوْۤا
اَنْ
یَّجْعَلُوْهُ
فِیْ
غَیٰبَتِ
الْجُبِّ ۚ
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْهِ
لَتُنَبِّئَنَّهُمْ
بِاَمْرِهِمْ
هٰذَا
وَهُمْ
لَا
یَشْعُرُوْنَ
۟
وَجَآءُوْۤ
اَبَاهُمْ
عِشَآءً
یَّبْكُوْنَ
۟ؕ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَاۤ
اِنَّا
ذَهَبْنَا
نَسْتَبِقُ
وَتَرَكْنَا
یُوْسُفَ
عِنْدَ
مَتَاعِنَا
فَاَكَلَهُ
الذِّئْبُ ۚ
وَمَاۤ
اَنْتَ
بِمُؤْمِنٍ
لَّنَا
وَلَوْ
كُنَّا
صٰدِقِیْنَ
۟
وَجَآءُوْ
عَلٰی
قَمِیْصِهٖ
بِدَمٍ
كَذِبٍ ؕ
قَالَ
بَلْ
سَوَّلَتْ
لَكُمْ
اَنْفُسُكُمْ
اَمْرًا ؕ
فَصَبْرٌ
جَمِیْلٌ ؕ
وَاللّٰهُ
الْمُسْتَعَانُ
عَلٰی
مَا
تَصِفُوْنَ
۟

انہوں نے کہا : اباجان ! کیا وجہ ہے کہ آپ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے یوسف کے معاملے میں حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیر خواہ ہیں (11) کل ذرا اسے ہمارے ساتھ بھیجئے وہ کچھ چر چگ لے گا اور کھیلے کو دے گا اور ہم یقینا اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (12) یعقوب نے فرمایا : مجھے یہ بات اندیشہ میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھاجائے جبکہ تم اس سے غافل ہوجاؤ (13) وہ کہنے لگے کہ اگر (ہمارے ہوتے ہوئے) اسے بھیڑیا کھا گیا جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں تب تو ہم بہت ہی نکمے ثابت ہوں گے (14) پھر جب وہ اس کو لے گئے اور سب اس پر متفق ہوگئے کہ اسے ڈال دیں باؤلی کے طاقچے میں اور ہم نے (اس وقت) وحی کی یوسف کو کہ تم (ایک دن) ان کو ان کی یہ حرکت ضرور جتلاؤ گے اور انہیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوگا (15) اور وہ آئے اپنے والد کے پاس شام کو روتے ہوئے (16) انہوں نے کہا : ابا جان ! ہم جا کر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس تو اسے کھالیا ایک بھیڑیے نے۔ اور آپ ہماری بات مانیں گے تو نہیں خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں (17) اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے حضرت یعقوب نے فرمایا : (واقعہ یوں نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد طلب کی جاسکتی ہے اس پر جو تم بیان کر رہے ہو (18)
–سورہ يوسف [12:11-18]
وجاء اخوة يوسف فدخلوا عليه فعرفهم وهم له منكرون ٥٨ ولما جهزهم بجهازهم قال ايتوني باخ لكم من ابيكم الا ترون اني اوفي الكيل وانا خير المنزلين ٥٩ فان لم تاتوني به فلا كيل لكم عندي ولا تقربون ٦٠ قالوا سنراود عنه اباه وانا لفاعلون ٦١ وقال لفتيانه اجعلوا بضاعتهم في رحالهم لعلهم يعرفونها اذا انقلبوا الى اهلهم لعلهم يرجعون ٦٢
وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٥٨ وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍْ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ ٥٩ فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ ٦٠ قَالُواْ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـٰعِلُونَ ٦١ وَقَالَ لِفِتْيَـٰنِهِ ٱجْعَلُواْ بِضَـٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ٦٢

وَجَآءَ
اِخْوَةُ
یُوْسُفَ
فَدَخَلُوْا
عَلَیْهِ
فَعَرَفَهُمْ
وَهُمْ
لَهٗ
مُنْكِرُوْنَ
۟
وَلَمَّا
جَهَّزَهُمْ
بِجَهَازِهِمْ
قَالَ
ائْتُوْنِیْ
بِاَخٍ
لَّكُمْ
مِّنْ
اَبِیْكُمْ ۚ
اَلَا
تَرَوْنَ
اَنِّیْۤ
اُوْفِی
الْكَیْلَ
وَاَنَا
خَیْرُ
الْمُنْزِلِیْنَ
۟
فَاِنْ
لَّمْ
تَاْتُوْنِیْ
بِهٖ
فَلَا
كَیْلَ
لَكُمْ
عِنْدِیْ
وَلَا
تَقْرَبُوْنِ
۟
قَالُوْا
سَنُرَاوِدُ
عَنْهُ
اَبَاهُ
وَاِنَّا
لَفٰعِلُوْنَ
۟
وَقَالَ
لِفِتْیٰنِهِ
اجْعَلُوْا
بِضَاعَتَهُمْ
فِیْ
رِحَالِهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَعْرِفُوْنَهَاۤ
اِذَا
انْقَلَبُوْۤا
اِلٰۤی
اَهْلِهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ
۟

اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے (58) پھر جب آپ نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے (تمہارا بھائی) ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور بہترین مہمان نوازی کرنے والا بھی ہوں (59) اور اگر تم اسے میرے پاس لے کر نہیں آؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا (60) انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کر کے رہیں گے (61) اور یوسف نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) ان کے کجاو وں میں رکھ دو تاکہ وہ پہچانیں ان کو جب لوٹیں اپنے اہل و عیال کی طرف شاید کہ (اس طرح) وہ دوبارہ آئیں (62)
–سورہ يوسف [12:58-62]
فلما رجعوا الى ابيهم قالوا يا ابانا منع منا الكيل فارسل معنا اخانا نكتل وانا له لحافظون ٦٣ قال هل امنكم عليه الا كما امنتكم على اخيه من قبل فالله خير حافظا وهو ارحم الراحمين ٦٤ ولما فتحوا متاعهم وجدوا بضاعتهم ردت اليهم قالوا يا ابانا ما نبغي هاذه بضاعتنا ردت الينا ونمير اهلنا ونحفظ اخانا ونزداد كيل بعير ذالك كيل يسير ٦٥ قال لن ارسله معكم حتى توتون موثقا من الله لتاتنني به الا ان يحاط بكم فلما اتوه موثقهم قال الله على ما نقول وكيل ٦٦ وقال يا بني لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقة وما اغني عنكم من الله من شيء ان الحكم الا لله عليه توكلت وعليه فليتوكل المتوكلون ٦٧ ولما دخلوا من حيث امرهم ابوهم ما كان يغني عنهم من الله من شيء الا حاجة في نفس يعقوب قضاها وانه لذو علم لما علمناه ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٦٨
فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ٦٣ قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَـٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٦٤ وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَـٰعَهُمْ وَجَدُواْ بِضَـٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَـٰذِهِۦ بِضَـٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍْ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ ٦٥ قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ ٦٦ وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُواْ مِنْ بَابٍْ وَٰحِدٍْ وَٱدْخُلُواْ مِنْ أَبْوَٰبٍْ مُّتَفَرِّقَةٍْ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧ وَلَمَّا دَخَلُواْ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍْ لِّمَا عَلَّمْنَـٰهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦٨

فَلَمَّا
رَجَعُوْۤا
اِلٰۤی
اَبِیْهِمْ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مُنِعَ
مِنَّا
الْكَیْلُ
فَاَرْسِلْ
مَعَنَاۤ
اَخَانَا
نَكْتَلْ
وَاِنَّا
لَهٗ
لَحٰفِظُوْنَ
۟
قَالَ
هَلْ
اٰمَنُكُمْ
عَلَیْهِ
اِلَّا
كَمَاۤ
اَمِنْتُكُمْ
عَلٰۤی
اَخِیْهِ
مِنْ
قَبْلُ ؕ
فَاللّٰهُ
خَیْرٌ
حٰفِظًا ۪
وَّهُوَ
اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْنَ
۟
وَلَمَّا
فَتَحُوْا
مَتَاعَهُمْ
وَجَدُوْا
بِضَاعَتَهُمْ
رُدَّتْ
اِلَیْهِمْ ؕ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مَا
نَبْغِیْ ؕ
هٰذِهٖ
بِضَاعَتُنَا
رُدَّتْ
اِلَیْنَا ۚ
وَنَمِیْرُ
اَهْلَنَا
وَنَحْفَظُ
اَخَانَا
وَنَزْدَادُ
كَیْلَ
بَعِیْرٍ ؕ
ذٰلِكَ
كَیْلٌ
یَّسِیْرٌ
۟
قَالَ
لَنْ
اُرْسِلَهٗ
مَعَكُمْ
حَتّٰی
تُؤْتُوْنِ
مَوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
لَتَاْتُنَّنِیْ
بِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّحَاطَ
بِكُمْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اٰتَوْهُ
مَوْثِقَهُمْ
قَالَ
اللّٰهُ
عَلٰی
مَا
نَقُوْلُ
وَكِیْلٌ
۟
وَقَالَ
یٰبَنِیَّ
لَا
تَدْخُلُوْا
مِنْ
بَابٍ
وَّاحِدٍ
وَّادْخُلُوْا
مِنْ
اَبْوَابٍ
مُّتَفَرِّقَةٍ ؕ
وَمَاۤ
اُغْنِیْ
عَنْكُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
اِنِ
الْحُكْمُ
اِلَّا
لِلّٰهِ ؕ
عَلَیْهِ
تَوَكَّلْتُ ۚ
وَعَلَیْهِ
فَلْیَتَوَكَّلِ
الْمُتَوَكِّلُوْنَ
۟
وَلَمَّا
دَخَلُوْا
مِنْ
حَیْثُ
اَمَرَهُمْ
اَبُوْهُمْ ؕ
مَا
كَانَ
یُغْنِیْ
عَنْهُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ
اِلَّا
حَاجَةً
فِیْ
نَفْسِ
یَعْقُوْبَ
قَضٰىهَا ؕ
وَاِنَّهٗ
لَذُوْ
عِلْمٍ
لِّمَا
عَلَّمْنٰهُ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠

پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے (63) یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے (64) اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے (66) اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے (67) تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (68)
–سورہ يوسف [12:63-68]
ولما دخلوا على يوسف اوى اليه اخاه قال اني انا اخوك فلا تبتيس بما كانوا يعملون ٦٩ فلما جهزهم بجهازهم جعل السقاية في رحل اخيه ثم اذن موذن ايتها العير انكم لسارقون ٧٠ قالوا واقبلوا عليهم ماذا تفقدون ٧١ قالوا نفقد صواع الملك ولمن جاء به حمل بعير وانا به زعيم ٧٢ قالوا تالله لقد علمتم ما جينا لنفسد في الارض وما كنا سارقين ٧٣ قالوا فما جزاوه ان كنتم كاذبين ٧٤
وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ٦٩ فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَـٰرِقُونَ ٧٠ قَالُواْ وَأَقْبَلُواْ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ ٧١ قَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍْ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ ٧٢ قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَـٰرِقِينَ ٧٣ قَالُواْ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَـٰذِبِينَ ٧٤

وَلَمَّا
دَخَلُوْا
عَلٰی
یُوْسُفَ
اٰوٰۤی
اِلَیْهِ
اَخَاهُ
قَالَ
اِنِّیْۤ
اَنَا
اَخُوْكَ
فَلَا
تَبْتَىِٕسْ
بِمَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
فَلَمَّا
جَهَّزَهُمْ
بِجَهَازِهِمْ
جَعَلَ
السِّقَایَةَ
فِیْ
رَحْلِ
اَخِیْهِ
ثُمَّ
اَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ
اَیَّتُهَا
الْعِیْرُ
اِنَّكُمْ
لَسٰرِقُوْنَ
۟
قَالُوْا
وَاَقْبَلُوْا
عَلَیْهِمْ
مَّاذَا
تَفْقِدُوْنَ
۟
قَالُوْا
نَفْقِدُ
صُوَاعَ
الْمَلِكِ
وَلِمَنْ
جَآءَ
بِهٖ
حِمْلُ
بَعِیْرٍ
وَّاَنَا
بِهٖ
زَعِیْمٌ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
لَقَدْ
عَلِمْتُمْ
مَّا
جِئْنَا
لِنُفْسِدَ
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
كُنَّا
سٰرِقِیْنَ
۟
قَالُوْا
فَمَا
جَزَآؤُهٗۤ
اِنْ
كُنْتُمْ
كٰذِبِیْنَ
۟

اور جب وہ آئے یوسف کے پاس تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتادیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو اب مت غمگین ہونا اس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں (69) پھر جب آپ نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کرا دیا تو رکھ دیا پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں پھر ایک پکارنے والے نے پکار لگائی کہ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو (70) انہوں نے پوچھا ان کی طرف مڑ کر کہ آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے (71) انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جام زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں (72) انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد مچانے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے ہرگز نہیں ہیں (73) انہوں (شاہی ملازمین) نے کہا کہ پھر اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم لوگ جھوٹے ہوئے (74)
–سورہ يوسف [12:69-74]
قالوا جزاوه من وجد في رحله فهو جزاوه كذالك نجزي الظالمين ٧٥ فبدا باوعيتهم قبل وعاء اخيه ثم استخرجها من وعاء اخيه كذالك كدنا ليوسف ما كان لياخذ اخاه في دين الملك الا ان يشاء الله نرفع درجات من نشاء وفوق كل ذي علم عليم ٧٦ ۞ قالوا ان يسرق فقد سرق اخ له من قبل فاسرها يوسف في نفسه ولم يبدها لهم قال انتم شر مكانا والله اعلم بما تصفون ٧٧ قالوا يا ايها العزيز ان له ابا شيخا كبيرا فخذ احدنا مكانه انا نراك من المحسنين ٧٨ قال معاذ الله ان ناخذ الا من وجدنا متاعنا عنده انا اذا لظالمون ٧٩
قَالُواْ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ ٧٥ فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍْ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ ٧٦ ۞ قَالُوٓاْ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧ قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٧٨ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَـٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَـٰلِمُونَ ٧٩

قَالُوْا
جَزَآؤُهٗ
مَنْ
وُّجِدَ
فِیْ
رَحْلِهٖ
فَهُوَ
جَزَآؤُهٗ ؕ
كَذٰلِكَ
نَجْزِی
الظّٰلِمِیْنَ
۟
فَبَدَاَ
بِاَوْعِیَتِهِمْ
قَبْلَ
وِعَآءِ
اَخِیْهِ
ثُمَّ
اسْتَخْرَجَهَا
مِنْ
وِّعَآءِ
اَخِیْهِ ؕ
كَذٰلِكَ
كِدْنَا
لِیُوْسُفَ ؕ
مَا
كَانَ
لِیَاْخُذَ
اَخَاهُ
فِیْ
دِیْنِ
الْمَلِكِ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّشَآءَ
اللّٰهُ ؕ
نَرْفَعُ
دَرَجٰتٍ
مَّنْ
نَّشَآءُ ؕ
وَفَوْقَ
كُلِّ
ذِیْ
عِلْمٍ
عَلِیْمٌ
۟
قَالُوْۤا
اِنْ
یَّسْرِقْ
فَقَدْ
سَرَقَ
اَخٌ
لَّهٗ
مِنْ
قَبْلُ ۚ
فَاَسَرَّهَا
یُوْسُفُ
فِیْ
نَفْسِهٖ
وَلَمْ
یُبْدِهَا
لَهُمْ ۚ
قَالَ
اَنْتُمْ
شَرٌّ
مَّكَانًا ۚ
وَاللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِمَا
تَصِفُوْنَ
۟
قَالُوْا
یٰۤاَیُّهَا
الْعَزِیْزُ
اِنَّ
لَهٗۤ
اَبًا
شَیْخًا
كَبِیْرًا
فَخُذْ
اَحَدَنَا
مَكَانَهٗ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قَالَ
مَعَاذَ
اللّٰهِ
اَنْ
نَّاْخُذَ
اِلَّا
مَنْ
وَّجَدْنَا
مَتَاعَنَا
عِنْدَهٗۤ ۙ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّظٰلِمُوْنَ
۟۠

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جام زریں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہوگا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں (75) تو آپ نے (تلاشی) شروع کی ان کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے پھر آپ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں۔ اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحب علم بھی ہے (76) انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے اس کو چھپائے رکھا یوسف نے اپنے جی میں اور ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا آپ نے (دل ہی دل میں) کہا کہ تم بجائے خود بہت برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے (77) وہ کہنے لگے : اے عزیز (صاحب اختیار) ! اس کا والد جو ہے بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بڑے ہی نیک انسان ہیں (78) یوسف نے فرمایا : اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم پکڑ لیں کسی اور کو اس شخص کے بجائے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال برآمد کیا ہے یقیناً اس صورت میں تو ہم ظالم ہوں گے (79)
–سورہ يوسف [12:75-79]
فلما استياسوا منه خلصوا نجيا قال كبيرهم الم تعلموا ان اباكم قد اخذ عليكم موثقا من الله ومن قبل ما فرطتم في يوسف فلن ابرح الارض حتى ياذن لي ابي او يحكم الله لي وهو خير الحاكمين ٨٠ ارجعوا الى ابيكم فقولوا يا ابانا ان ابنك سرق وما شهدنا الا بما علمنا وما كنا للغيب حافظين ٨١ واسال القرية التي كنا فيها والعير التي اقبلنا فيها وانا لصادقون ٨٢ قال بل سولت لكم انفسكم امرا فصبر جميل عسى الله ان ياتيني بهم جميعا انه هو العليم الحكيم ٨٣ وتولى عنهم وقال يا اسفى على يوسف وابيضت عيناه من الحزن فهو كظيم ٨٤ قالوا تالله تفتا تذكر يوسف حتى تكون حرضا او تكون من الهالكين ٨٥ قال انما اشكو بثي وحزني الى الله واعلم من الله ما لا تعلمون ٨٦ يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف واخيه ولا تياسوا من روح الله انه لا يياس من روح الله الا القوم الكافرون ٨٧
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُواْ مِنْهُ خَلَصُواْ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓاْ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ ٨٠ ٱرْجِعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَـٰفِظِينَ ٨١ وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ٨٢ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ٨٣ وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ ٨٤ قَالُواْ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُاْ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ ٨٥ قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُواْ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٨٦ يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيْـَٔسُواْ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨٧

فَلَمَّا
اسْتَیْـَٔسُوْا
مِنْهُ
خَلَصُوْا
نَجِیًّا ؕ
قَالَ
كَبِیْرُهُمْ
اَلَمْ
تَعْلَمُوْۤا
اَنَّ
اَبَاكُمْ
قَدْ
اَخَذَ
عَلَیْكُمْ
مَّوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
وَمِنْ
قَبْلُ
مَا
فَرَّطْتُّمْ
فِیْ
یُوْسُفَ ۚ
فَلَنْ
اَبْرَحَ
الْاَرْضَ
حَتّٰی
یَاْذَنَ
لِیْۤ
اَبِیْۤ
اَوْ
یَحْكُمَ
اللّٰهُ
لِیْ ۚ
وَهُوَ
خَیْرُ
الْحٰكِمِیْنَ
۟
اِرْجِعُوْۤا
اِلٰۤی
اَبِیْكُمْ
فَقُوْلُوْا
یٰۤاَبَانَاۤ
اِنَّ
ابْنَكَ
سَرَقَ ۚ
وَمَا
شَهِدْنَاۤ
اِلَّا
بِمَا
عَلِمْنَا
وَمَا
كُنَّا
لِلْغَیْبِ
حٰفِظِیْنَ
۟
وَسْـَٔلِ
الْقَرْیَةَ
الَّتِیْ
كُنَّا
فِیْهَا
وَالْعِیْرَ
الَّتِیْۤ
اَقْبَلْنَا
فِیْهَا ؕ
وَاِنَّا
لَصٰدِقُوْنَ
۟
قَالَ
بَلْ
سَوَّلَتْ
لَكُمْ
اَنْفُسُكُمْ
اَمْرًا ؕ
فَصَبْرٌ
جَمِیْلٌ ؕ
عَسَی
اللّٰهُ
اَنْ
یَّاْتِیَنِیْ
بِهِمْ
جَمِیْعًا ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْعَلِیْمُ
الْحَكِیْمُ
۟
وَتَوَلّٰی
عَنْهُمْ
وَقَالَ
یٰۤاَسَفٰی
عَلٰی
یُوْسُفَ
وَابْیَضَّتْ
عَیْنٰهُ
مِنَ
الْحُزْنِ
فَهُوَ
كَظِیْمٌ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
تَفْتَؤُا
تَذْكُرُ
یُوْسُفَ
حَتّٰی
تَكُوْنَ
حَرَضًا
اَوْ
تَكُوْنَ
مِنَ
الْهٰلِكِیْنَ
۟
قَالَ
اِنَّمَاۤ
اَشْكُوْا
بَثِّیْ
وَحُزْنِیْۤ
اِلَی
اللّٰهِ
وَاَعْلَمُ
مِنَ
اللّٰهِ
مَا
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
یٰبَنِیَّ
اذْهَبُوْا
فَتَحَسَّسُوْا
مِنْ
یُّوْسُفَ
وَاَخِیْهِ
وَلَا
تَایْـَٔسُوْا
مِنْ
رَّوْحِ
اللّٰهِ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یَایْـَٔسُ
مِنْ
رَّوْحِ
اللّٰهِ
اِلَّا
الْقَوْمُ
الْكٰفِرُوْنَ
۟

پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (80) تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں (81) آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے (والوں) سے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں (82) آپ نے فرمایا : (نہیں !) بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کردیا ہے پس صبر ہی بہتر ہے ہوسکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے (83) اور آپ نے ان سے رخ پھیرلیا اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف پر ! (اور رونا شروع کردیا) اور صدمے سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں کیونکہ آپ غم کو (اندر ہی اندر) پیتے رہتے تھے (84) انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے (85) یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو (86) اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں (87)
–سورہ يوسف [12:80-87]
فلما دخلوا عليه قالوا يا ايها العزيز مسنا واهلنا الضر وجينا ببضاعة مزجاة فاوف لنا الكيل وتصدق علينا ان الله يجزي المتصدقين ٨٨ قال هل علمتم ما فعلتم بيوسف واخيه اذ انتم جاهلون ٨٩ قالوا اانك لانت يوسف قال انا يوسف وهاذا اخي قد من الله علينا انه من يتق ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين ٩٠ قالوا تالله لقد اثرك الله علينا وان كنا لخاطيين ٩١ قال لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين ٩٢ اذهبوا بقميصي هاذا فالقوه على وجه ابي يات بصيرا واتوني باهلكم اجمعين ٩٣
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيْهِ قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَـٰعَةٍْ مُّزْجَىٰةٍْ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ ٨٨ قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـٰهِلُونَ ٨٩ قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٩٠ قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَـٰطِـِٔينَ ٩١ قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢ ٱذْهَبُواْ بِقَمِيصِى هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ ٩٣

فَلَمَّا
دَخَلُوْا
عَلَیْهِ
قَالُوْا
یٰۤاَیُّهَا
الْعَزِیْزُ
مَسَّنَا
وَاَهْلَنَا
الضُّرُّ
وَجِئْنَا
بِبِضَاعَةٍ
مُّزْجٰىةٍ
فَاَوْفِ
لَنَا
الْكَیْلَ
وَتَصَدَّقْ
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَجْزِی
الْمُتَصَدِّقِیْنَ
۟
قَالَ
هَلْ
عَلِمْتُمْ
مَّا
فَعَلْتُمْ
بِیُوْسُفَ
وَاَخِیْهِ
اِذْ
اَنْتُمْ
جٰهِلُوْنَ
۟
قَالُوْۤا
ءَاِنَّكَ
لَاَنْتَ
یُوْسُفُ ؕ
قَالَ
اَنَا
یُوْسُفُ
وَهٰذَاۤ
اَخِیْ ؗ
قَدْ
مَنَّ
اللّٰهُ
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّهٗ
مَنْ
یَّتَّقِ
وَیَصْبِرْ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یُضِیْعُ
اَجْرَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
لَقَدْ
اٰثَرَكَ
اللّٰهُ
عَلَیْنَا
وَاِنْ
كُنَّا
لَخٰطِـِٕیْنَ
۟
قَالَ
لَا
تَثْرِیْبَ
عَلَیْكُمُ
الْیَوْمَ ؕ
یَغْفِرُ
اللّٰهُ
لَكُمْ ؗ
وَهُوَ
اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْنَ
۟
اِذْهَبُوْا
بِقَمِیْصِیْ
هٰذَا
فَاَلْقُوْهُ
عَلٰی
وَجْهِ
اَبِیْ
یَاْتِ
بَصِیْرًا ۚ
وَاْتُوْنِیْ
بِاَهْلِكُمْ
اَجْمَعِیْنَ
۟۠

پھر جب وہ لوگ یوسف کے ہاں پہنچے انہوں نے کہا : اے عزیز (صاحب اختیار) ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بڑی سختی آگئی ہے اور ہم بہت حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں لیکن (اس کے باوجود) آپ ہمارے لیے پیمانے پورے بھر کردیجیے اور ہمیں خیرات بھی دیجیے یقیناً اللہ صدقہ دینے والوں کو جزاد یتا ہے (88) آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم نے کیا کیا تھا یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ جب کہ تم نادان تھے (89) انہوں نے کہا : تو کیا آپ یوسف ہیں ؟ یوسف نے فرمایا : ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا (90) انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور یقیناً ہم ہی خطاکار تھے (91) یوسف نے فرمایا : آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے (92) تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور (جا کر) اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو آپ کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے تمام اہل خانہ کو (93)
–سورہ يوسف [12:88-93]
وجاءت سيارة فارسلوا واردهم فادلى دلوه قال يا بشرى هاذا غلام واسروه بضاعة والله عليم بما يعملون ١٩ وشروه بثمن بخس دراهم معدودة وكانوا فيه من الزاهدين ٢٠ وقال الذي اشتراه من مصر لامراته اكرمي مثواه عسى ان ينفعنا او نتخذه ولدا وكذالك مكنا ليوسف في الارض ولنعلمه من تاويل الاحاديث والله غالب على امره ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٢١ ولما بلغ اشده اتيناه حكما وعلما وكذالك نجزي المحسنين ٢٢
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُواْ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌْ بِمَا يَعْمَلُونَ ١٩ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍْ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍْ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ ٢٠ وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٢١ وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ٢٢

وَجَآءَتْ
سَیَّارَةٌ
فَاَرْسَلُوْا
وَارِدَهُمْ
فَاَدْلٰی
دَلْوَهٗ ؕ
قَالَ
یٰبُشْرٰی
هٰذَا
غُلٰمٌ ؕ
وَاَسَرُّوْهُ
بِضَاعَةً ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِیْمٌۢ
بِمَا
یَعْمَلُوْنَ
۟
وَشَرَوْهُ
بِثَمَنٍ
بَخْسٍ
دَرَاهِمَ
مَعْدُوْدَةٍ ۚ
وَكَانُوْا
فِیْهِ
مِنَ
الزَّاهِدِیْنَ
۟۠
وَقَالَ
الَّذِی
اشْتَرٰىهُ
مِنْ
مِّصْرَ
لِامْرَاَتِهٖۤ
اَكْرِمِیْ
مَثْوٰىهُ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّنْفَعَنَاۤ
اَوْ
نَتَّخِذَهٗ
وَلَدًا ؕ
وَكَذٰلِكَ
مَكَّنَّا
لِیُوْسُفَ
فِی
الْاَرْضِ ؗ
وَلِنُعَلِّمَهٗ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ ؕ
وَاللّٰهُ
غَالِبٌ
عَلٰۤی
اَمْرِهٖ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
وَلَمَّا
بَلَغَ
اَشُدَّهٗۤ
اٰتَیْنٰهُ
حُكْمًا
وَّعِلْمًا ؕ
وَكَذٰلِكَ
نَجْزِی
الْمُحْسِنِیْنَ
۟

اور (کچھ عرصہ بعد) ایک قافلہ آیا تو انہوں نے بھیجا اپنے آگے چلنے والے کو تو اس نے لٹکایا اپنا ڈول وہ پکار اٹھا کہ خوشخبری ہو ! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے چھپالیا ایک پونجی سمجھ کر اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ کر رہے تھے (19) اور (مصر پہنچ کر) انہوں نے بیچ دیا اس کو بڑی تھوڑی سی قیمت پر چند درہم کے عوض اور وہ تھے اس کے معاملے میں بہت ہی قناعت پسند (20) اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا (اس نے) اپنی بیوی سے کہا : اس کو اچھے طریقے سے رکھنا ہوسکتا ہے یہ ہمارے لیے نفع بخش ہو یا پھر ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں تمکنّ عطا کیا اور تاکہ ہم اس کو سکھائیں باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم اور اللہ تو اپنے فیصلے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (21) اور جب آپ اپنی جوانی کو پہنچ گئے تو ہم نے آپ کو حکم اور علم عطا کیا اور اسی طرح ہم محسنین کو بدلہ دیتے ہیں (22)
–سورہ يوسف [12:19-22]
وقال الملك ايتوني به فلما جاءه الرسول قال ارجع الى ربك فاساله ما بال النسوة اللاتي قطعن ايديهن ان ربي بكيدهن عليم ٥٠ قال ما خطبكن اذ راودتن يوسف عن نفسه قلن حاش لله ما علمنا عليه من سوء قالت امرات العزيز الان حصحص الحق انا راودته عن نفسه وانه لمن الصادقين ٥١ ذالك ليعلم اني لم اخنه بالغيب وان الله لا يهدي كيد الخاينين ٥٢ ۞ وما ابري نفسي ان النفس لامارة بالسوء الا ما رحم ربي ان ربي غفور رحيم ٥٣ وقال الملك ايتوني به استخلصه لنفسي فلما كلمه قال انك اليوم لدينا مكين امين ٥٤ قال اجعلني على خزاين الارض اني حفيظ عليم ٥٥ وكذالك مكنا ليوسف في الارض يتبوا منها حيث يشاء نصيب برحمتنا من نشاء ولا نضيع اجر المحسنين ٥٦ ولاجر الاخرة خير للذين امنوا وكانوا يتقون ٥٧
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّـٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ ٥٠ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍْ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٰنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٥١ ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ ٥٢ ۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌْ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٥٣ وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ ٥٤ قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ ٥٥ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٥٦ وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ٥٧

وَقَالَ
الْمَلِكُ
ائْتُوْنِیْ
بِهٖ ۚ
فَلَمَّا
جَآءَهُ
الرَّسُوْلُ
قَالَ
ارْجِعْ
اِلٰی
رَبِّكَ
فَسْـَٔلْهُ
مَا
بَالُ
النِّسْوَةِ
الّٰتِیْ
قَطَّعْنَ
اَیْدِیَهُنَّ ؕ
اِنَّ
رَبِّیْ
بِكَیْدِهِنَّ
عَلِیْمٌ
۟
قَالَ
مَا
خَطْبُكُنَّ
اِذْ
رَاوَدْتُّنَّ
یُوْسُفَ
عَنْ
نَّفْسِهٖ ؕ
قُلْنَ
حَاشَ
لِلّٰهِ
مَا
عَلِمْنَا
عَلَیْهِ
مِنْ
سُوْٓءٍ ؕ
قَالَتِ
امْرَاَتُ
الْعَزِیْزِ
الْـٰٔنَ
حَصْحَصَ
الْحَقُّ ؗ
اَنَا
رَاوَدْتُّهٗ
عَنْ
نَّفْسِهٖ
وَاِنَّهٗ
لَمِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟
ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ
اَنِّیْ
لَمْ
اَخُنْهُ
بِالْغَیْبِ
وَاَنَّ
اللّٰهَ
لَا
یَهْدِیْ
كَیْدَ
الْخَآىِٕنِیْنَ
۟
وَمَاۤ
اُبَرِّئُ
نَفْسِیْ ۚ
اِنَّ
النَّفْسَ
لَاَمَّارَةٌ
بِالسُّوْٓءِ
اِلَّا
مَا
رَحِمَ
رَبِّیْ ؕ
اِنَّ
رَبِّیْ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
وَقَالَ
الْمَلِكُ
ائْتُوْنِیْ
بِهٖۤ
اَسْتَخْلِصْهُ
لِنَفْسِیْ ۚ
فَلَمَّا
كَلَّمَهٗ
قَالَ
اِنَّكَ
الْیَوْمَ
لَدَیْنَا
مَكِیْنٌ
اَمِیْنٌ
۟
قَالَ
اجْعَلْنِیْ
عَلٰی
خَزَآىِٕنِ
الْاَرْضِ ۚ
اِنِّیْ
حَفِیْظٌ
عَلِیْمٌ
۟
وَكَذٰلِكَ
مَكَّنَّا
لِیُوْسُفَ
فِی
الْاَرْضِ ۚ
یَتَبَوَّاُ
مِنْهَا
حَیْثُ
یَشَآءُ ؕ
نُصِیْبُ
بِرَحْمَتِنَا
مَنْ
نَّشَآءُ
وَلَا
نُضِیْعُ
اَجْرَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
وَلَاَجْرُ
الْاٰخِرَةِ
خَیْرٌ
لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَكَانُوْا
یَتَّقُوْنَ
۟۠

(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ پھر جب آیا آپ کے پاس ایلچی تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقا کے پاس اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے یقیناً میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے (50) اس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے (اس پر) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے (51) یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا (52) اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (53) اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں (54) آپ نے فرمایا کہ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور جاننے والا بھی ہوں (55) اور اس طرح ہم نے یوسف کو تمکن عطا کیا (مصر کی) زمین میں کہ وہ اس میں جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ بنا لے ہم اپنی رحمت سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتے (56) اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں (57)
–سورہ يوسف [12:50-57]
وراودته التي هو في بيتها عن نفسه وغلقت الابواب وقالت هيت لك قال معاذ الله انه ربي احسن مثواي انه لا يفلح الظالمون ٢٣ ولقد همت به وهم بها لولا ان راى برهان ربه كذالك لنصرف عنه السوء والفحشاء انه من عبادنا المخلصين ٢٤ واستبقا الباب وقدت قميصه من دبر والفيا سيدها لدى الباب قالت ما جزاء من اراد باهلك سوءا الا ان يسجن او عذاب اليم ٢٥ قال هي راودتني عن نفسي وشهد شاهد من اهلها ان كان قميصه قد من قبل فصدقت وهو من الكاذبين ٢٦ وان كان قميصه قد من دبر فكذبت وهو من الصادقين ٢٧ فلما راى قميصه قد من دبر قال انه من كيدكن ان كيدكن عظيم ٢٨ يوسف اعرض عن هاذا واستغفري لذنبك انك كنت من الخاطيين ٢٩
وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٢٣ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَـٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ ٢٤ وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍْ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٢٥ قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍْ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ٢٦ وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍْ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٢٧ فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍْ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌۭ ٢٨ يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنْبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ ٢٩

وَرَاوَدَتْهُ
الَّتِیْ
هُوَ
فِیْ
بَیْتِهَا
عَنْ
نَّفْسِهٖ
وَغَلَّقَتِ
الْاَبْوَابَ
وَقَالَتْ
هَیْتَ
لَكَ ؕ
قَالَ
مَعَاذَ
اللّٰهِ
اِنَّهٗ
رَبِّیْۤ
اَحْسَنَ
مَثْوَایَ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یُفْلِحُ
الظّٰلِمُوْنَ
۟
وَلَقَدْ
هَمَّتْ
بِهٖ ۚ
وَهَمَّ
بِهَا
لَوْلَاۤ
اَنْ
رَّاٰ
بُرْهَانَ
رَبِّهٖ ؕ
كَذٰلِكَ
لِنَصْرِفَ
عَنْهُ
السُّوْٓءَ
وَالْفَحْشَآءَ ؕ
اِنَّهٗ
مِنْ
عِبَادِنَا
الْمُخْلَصِیْنَ
۟
وَاسْتَبَقَا
الْبَابَ
وَقَدَّتْ
قَمِیْصَهٗ
مِنْ
دُبُرٍ
وَّاَلْفَیَا
سَیِّدَهَا
لَدَا
الْبَابِ ؕ
قَالَتْ
مَا
جَزَآءُ
مَنْ
اَرَادَ
بِاَهْلِكَ
سُوْٓءًا
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّسْجَنَ
اَوْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
قَالَ
هِیَ
رَاوَدَتْنِیْ
عَنْ
نَّفْسِیْ
وَشَهِدَ
شَاهِدٌ
مِّنْ
اَهْلِهَا ۚ
اِنْ
كَانَ
قَمِیْصُهٗ
قُدَّ
مِنْ
قُبُلٍ
فَصَدَقَتْ
وَهُوَ
مِنَ
الْكٰذِبِیْنَ
۟
وَاِنْ
كَانَ
قَمِیْصُهٗ
قُدَّ
مِنْ
دُبُرٍ
فَكَذَبَتْ
وَهُوَ
مِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟
فَلَمَّا
رَاٰ
قَمِیْصَهٗ
قُدَّ
مِنْ
دُبُرٍ
قَالَ
اِنَّهٗ
مِنْ
كَیْدِكُنَّ ؕ
اِنَّ
كَیْدَكُنَّ
عَظِیْمٌ
۟
یُوْسُفُ
اَعْرِضْ
عَنْ
هٰذَا ٚ
وَاسْتَغْفِرِیْ
لِذَنْۢبِكِ ۖۚ
اِنَّكِ
كُنْتِ
مِنَ
الْخٰطِـِٕیْنَ
۟۠

اور آپ کو پھسلانے کی کوشش کی اس عورت نے جس کے گھر میں آپ تھے اور (ایک موقع پر) اس نے دروازے بند کرلیے اور بولی جلدی سے آجاؤ آپ نے فرمایا : میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں وہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا ہے بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے (23) اور اس عورت نے ارادہ کیا آپ کا اور آپ بھی ارادہ کرلیتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی ایک دلیل یہ اس لیے کہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بےحیائی کو یقیناً وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے (24) اور وہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے اور پھاڑ دی اس (عورت) نے آپ کی قمیص پیچھے سے اور پایا ان دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس وہ (فوراً) بولی کیا سزا ہونی چاہیے ایسے شخص کی جس نے ارادہ کیا تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا سوائے اس کے کہ اسے جیل بھیج دیا جائے یا کوئی اور درد ناک سزا دی جائے (25) آپ نے فرمایا کہ اسی نے مجھے پھسلانا چاہا تھا اور گواہی دی عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے اگر تو اس کی قمیص پھٹی ہے سامنے سے تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے (26) اور اگر اس کی قمیص پھٹی ہے پیچھے سے تو پھر یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے (27) پھر جب اس (عزیز مصر) نے دیکھا کہ آپ کی قمیص پھٹی ہوئی ہے پیچھے سے تو اس نے کہا کہ یہ تم عورتوں کی چالوں میں سے (ایک چال) ہے یقیناً تم عورتوں کے فریب بہت بڑے ہوتے ہیں (28) یوسف ! اس معاملے سے درگزر کرو اور تم اپنے گناہ کی معافی مانگو یقیناً قصور وار تم ہی ہو (29)
–سورہ يوسف [12:23-29]
۞ وقال نسوة في المدينة امرات العزيز تراود فتاها عن نفسه قد شغفها حبا انا لنراها في ضلال مبين ٣٠ فلما سمعت بمكرهن ارسلت اليهن واعتدت لهن متكا واتت كل واحدة منهن سكينا وقالت اخرج عليهن فلما راينه اكبرنه وقطعن ايديهن وقلن حاش لله ما هاذا بشرا ان هاذا الا ملك كريم ٣١ قالت فذالكن الذي لمتنني فيه ولقد راودته عن نفسه فاستعصم ولين لم يفعل ما امره ليسجنن وليكونا من الصاغرين ٣٢ قال رب السجن احب الي مما يدعونني اليه والا تصرف عني كيدهن اصب اليهن واكن من الجاهلين ٣٣ فاستجاب له ربه فصرف عنه كيدهن انه هو السميع العليم ٣٤ ثم بدا لهم من بعد ما راوا الايات ليسجننه حتى حين ٣٥
۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَـٰلٍْ مُّبِينٍْ ٣٠ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍْ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ ٣١ قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ ٣٢ قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ ٣٣ فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٣٤ ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنْ بَعْدِ مَا رَأَوُاْ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍْ ٣٥

وَقَالَ
نِسْوَةٌ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
امْرَاَتُ
الْعَزِیْزِ
تُرَاوِدُ
فَتٰىهَا
عَنْ
نَّفْسِهٖ ۚ
قَدْ
شَغَفَهَا
حُبًّا ؕ
اِنَّا
لَنَرٰىهَا
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
فَلَمَّا
سَمِعَتْ
بِمَكْرِهِنَّ
اَرْسَلَتْ
اِلَیْهِنَّ
وَاَعْتَدَتْ
لَهُنَّ
مُتَّكَاً
وَّاٰتَتْ
كُلَّ
وَاحِدَةٍ
مِّنْهُنَّ
سِكِّیْنًا
وَّقَالَتِ
اخْرُجْ
عَلَیْهِنَّ ۚ
فَلَمَّا
رَاَیْنَهٗۤ
اَكْبَرْنَهٗ
وَقَطَّعْنَ
اَیْدِیَهُنَّ
وَقُلْنَ
حَاشَ
لِلّٰهِ
مَا
هٰذَا
بَشَرًا ؕ
اِنْ
هٰذَاۤ
اِلَّا
مَلَكٌ
كَرِیْمٌ
۟
قَالَتْ
فَذٰلِكُنَّ
الَّذِیْ
لُمْتُنَّنِیْ
فِیْهِ ؕ
وَلَقَدْ
رَاوَدْتُّهٗ
عَنْ
نَّفْسِهٖ
فَاسْتَعْصَمَ ؕ
وَلَىِٕنْ
لَّمْ
یَفْعَلْ
مَاۤ
اٰمُرُهٗ
لَیُسْجَنَنَّ
وَلَیَكُوْنًا
مِّنَ
الصّٰغِرِیْنَ
۟
قَالَ
رَبِّ
السِّجْنُ
اَحَبُّ
اِلَیَّ
مِمَّا
یَدْعُوْنَنِیْۤ
اِلَیْهِ ۚ
وَاِلَّا
تَصْرِفْ
عَنِّیْ
كَیْدَهُنَّ
اَصْبُ
اِلَیْهِنَّ
وَاَكُنْ
مِّنَ
الْجٰهِلِیْنَ
۟
فَاسْتَجَابَ
لَهٗ
رَبُّهٗ
فَصَرَفَ
عَنْهُ
كَیْدَهُنَّ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
السَّمِیْعُ
الْعَلِیْمُ
۟
ثُمَّ
بَدَا
لَهُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
مَا
رَاَوُا
الْاٰیٰتِ
لَیَسْجُنُنَّهٗ
حَتّٰی
حِیْنٍ
۟۠

اور شہر میں عورتوں نے (اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے) کہا کہ عزیز کی بیوی تو اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے یقیناً ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت بھٹک گئی ہے (30) پھر جب اس نے سنیں ان کی مکارانہ باتیں اس نے دعوت دی ان سب کو اور اہتمام کیا ایک تکیہ دار مجلس کا اور ان میں سے ہر عورت کو اس نے ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا کہ اب تم ان کے سامنے آؤ پھر جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو اسے بہت عظیم جانا (ششدر رہ گئیں) اور ان سب نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور وہ پکار اٹھیں کہ حاشا للہ یہ کوئی آدمی تو نہیں ! یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے (31) تو اس عورت نے کہا کہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں اور یقیناً میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا لیکن وہ بچا رہا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دے رہی ہوں تو وہ لازماً قید میں پڑے گا اور ضرور ذلیل ہو کر رہے گا (32) یوسف نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! مجھے قید زیادہ پسند ہے اس چیز سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو نے مجھ سے دور نہ کردیا ان کی چالوں کو تو (ہو سکتا ہے) میں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں (33) تو آپ کے رب نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کی چالوں کو آپ سے پھیر دیا۔ یقیناً وہی ہے سننے والا جاننے والا (34) پھر ان لوگوں کو یہ بات سوجھی ساری نشانیاں دیکھ لینے کے بعد کہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے (35)
–سورہ يوسف [12:30-35]
ودخل معه السجن فتيان قال احدهما اني اراني اعصر خمرا وقال الاخر اني اراني احمل فوق راسي خبزا تاكل الطير منه نبينا بتاويله انا نراك من المحسنين ٣٦ قال لا ياتيكما طعام ترزقانه الا نباتكما بتاويله قبل ان ياتيكما ذالكما مما علمني ربي اني تركت ملة قوم لا يومنون بالله وهم بالاخرة هم كافرون ٣٧ واتبعت ملة ابايي ابراهيم واسحاق ويعقوب ما كان لنا ان نشرك بالله من شيء ذالك من فضل الله علينا وعلى الناس ولاكن اكثر الناس لا يشكرون ٣٨ يا صاحبي السجن اارباب متفرقون خير ام الله الواحد القهار ٣٩ ما تعبدون من دونه الا اسماء سميتموها انتم واباوكم ما انزل الله بها من سلطان ان الحكم الا لله امر الا تعبدوا الا اياه ذالك الدين القيم ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٤٠ يا صاحبي السجن اما احدكما فيسقي ربه خمرا واما الاخر فيصلب فتاكل الطير من راسه قضي الامر الذي فيه تستفتيان ٤١ وقال للذي ظن انه ناج منهما اذكرني عند ربك فانساه الشيطان ذكر ربه فلبث في السجن بضع سنين ٤٢
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٣٦ قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍْ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ ٣٧ وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍْ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ٣٨ يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌۭ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٣٩ مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠ يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ٤١ وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍْ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ ٤٢

وَدَخَلَ
مَعَهُ
السِّجْنَ
فَتَیٰنِ ؕ
قَالَ
اَحَدُهُمَاۤ
اِنِّیْۤ
اَرٰىنِیْۤ
اَعْصِرُ
خَمْرًا ۚ
وَقَالَ
الْاٰخَرُ
اِنِّیْۤ
اَرٰىنِیْۤ
اَحْمِلُ
فَوْقَ
رَاْسِیْ
خُبْزًا
تَاْكُلُ
الطَّیْرُ
مِنْهُ ؕ
نَبِّئْنَا
بِتَاْوِیْلِهٖ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قَالَ
لَا
یَاْتِیْكُمَا
طَعَامٌ
تُرْزَقٰنِهٖۤ
اِلَّا
نَبَّاْتُكُمَا
بِتَاْوِیْلِهٖ
قَبْلَ
اَنْ
یَّاْتِیَكُمَا ؕ
ذٰلِكُمَا
مِمَّا
عَلَّمَنِیْ
رَبِّیْ ؕ
اِنِّیْ
تَرَكْتُ
مِلَّةَ
قَوْمٍ
لَّا
یُؤْمِنُوْنَ
بِاللّٰهِ
وَهُمْ
بِالْاٰخِرَةِ
هُمْ
كٰفِرُوْنَ
۟
وَاتَّبَعْتُ
مِلَّةَ
اٰبَآءِیْۤ
اِبْرٰهِیْمَ
وَاِسْحٰقَ
وَیَعْقُوْبَ ؕ
مَا
كَانَ
لَنَاۤ
اَنْ
نُّشْرِكَ
بِاللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
ذٰلِكَ
مِنْ
فَضْلِ
اللّٰهِ
عَلَیْنَا
وَعَلَی
النَّاسِ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَشْكُرُوْنَ
۟
یٰصَاحِبَیِ
السِّجْنِ
ءَاَرْبَابٌ
مُّتَفَرِّقُوْنَ
خَیْرٌ
اَمِ
اللّٰهُ
الْوَاحِدُ
الْقَهَّارُ
۟ؕ
مَا
تَعْبُدُوْنَ
مِنْ
دُوْنِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَسْمَآءً
سَمَّیْتُمُوْهَاۤ
اَنْتُمْ
وَاٰبَآؤُكُمْ
مَّاۤ
اَنْزَلَ
اللّٰهُ
بِهَا
مِنْ
سُلْطٰنٍ ؕ
اِنِ
الْحُكْمُ
اِلَّا
لِلّٰهِ ؕ
اَمَرَ
اَلَّا
تَعْبُدُوْۤا
اِلَّاۤ
اِیَّاهُ ؕ
ذٰلِكَ
الدِّیْنُ
الْقَیِّمُ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
یٰصَاحِبَیِ
السِّجْنِ
اَمَّاۤ
اَحَدُكُمَا
فَیَسْقِیْ
رَبَّهٗ
خَمْرًا ۚ
وَاَمَّا
الْاٰخَرُ
فَیُصْلَبُ
فَتَاْكُلُ
الطَّیْرُ
مِنْ
رَّاْسِهٖ ؕ
قُضِیَ
الْاَمْرُ
الَّذِیْ
فِیْهِ
تَسْتَفْتِیٰنِ
۟ؕ
وَقَالَ
لِلَّذِیْ
ظَنَّ
اَنَّهٗ
نَاجٍ
مِّنْهُمَا
اذْكُرْنِیْ
عِنْدَ
رَبِّكَ ؗ
فَاَنْسٰىهُ
الشَّیْطٰنُ
ذِكْرَ
رَبِّهٖ
فَلَبِثَ
فِی
السِّجْنِ
بِضْعَ
سِنِیْنَ
۟ؕ۠

اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ جیل میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے ہم آپ کو بہت نیکوکار دیکھتے ہیں (36) یوسف نے فرمایا کہ تم لوگوں کو جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تم دونوں کو اس کی تعبیر بتادوں گا یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے دیکھو !) میں نے ترک کردیا ہے اس قوم کا راستہ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں (37) اور میں نے پیروی کی ہے اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے طریقے کی (دیکھو !) ہمارے لیے یہ روا نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک کریں یہ اللہ کا بڑا فضل ہے ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (38) اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا اکیلا اللہ سب پر حاوی و غالب (39) نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے (40) اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی دے دی جائے گی اور پرندے اس کے سر میں سے (نوچ نوچ کر) کھائیں گے فیصلہ کردیا گیا ہے اس معاملے کا جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے (41) اور یوسف نے کہا اس شخص سے جس کے بارے میں آپ نے گمان کیا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا تو اسے بھلائے رکھا شیطان نے ذکر کرنا اپنے آقا سے تو آپ رہے جیل میں کئی برس تک (42)
–سورہ يوسف [12:36-42]
وقال الملك اني ارى سبع بقرات سمان ياكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر واخر يابسات يا ايها الملا افتوني في روياي ان كنتم للرويا تعبرون ٤٣ قالوا اضغاث احلام وما نحن بتاويل الاحلام بعالمين ٤٤ وقال الذي نجا منهما وادكر بعد امة انا انبيكم بتاويله فارسلون ٤٥ يوسف ايها الصديق افتنا في سبع بقرات سمان ياكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر واخر يابسات لعلي ارجع الى الناس لعلهم يعلمون ٤٦ قال تزرعون سبع سنين دابا فما حصدتم فذروه في سنبله الا قليلا مما تاكلون ٤٧ ثم ياتي من بعد ذالك سبع شداد ياكلن ما قدمتم لهن الا قليلا مما تحصنون ٤٨ ثم ياتي من بعد ذالك عام فيه يغاث الناس وفيه يعصرون ٤٩
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍْ سِمَانٍْ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنْبُلَـٰتٍ خُضْرٍْ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍْ ۖ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَـٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ ٤٣ قَالُوٓاْ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍْ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَـٰمِ بِعَـٰلِمِينَ ٤٤ وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ ٤٥ يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍْ سِمَانٍْ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنْبُلَـٰتٍ خُضْرٍْ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍْ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ٤٦ قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنْبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ٤٧ ثُمَّ يَأْتِى مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ ٤٨ ثُمَّ يَأْتِى مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ ٤٩

وَقَالَ
الْمَلِكُ
اِنِّیْۤ
اَرٰی
سَبْعَ
بَقَرٰتٍ
سِمَانٍ
یَّاْكُلُهُنَّ
سَبْعٌ
عِجَافٌ
وَّسَبْعَ
سُنْۢبُلٰتٍ
خُضْرٍ
وَّاُخَرَ
یٰبِسٰتٍ ؕ
یٰۤاَیُّهَا
الْمَلَاُ
اَفْتُوْنِیْ
فِیْ
رُءْیَایَ
اِنْ
كُنْتُمْ
لِلرُّءْیَا
تَعْبُرُوْنَ
۟
قَالُوْۤا
اَضْغَاثُ
اَحْلَامٍ ۚ
وَمَا
نَحْنُ
بِتَاْوِیْلِ
الْاَحْلَامِ
بِعٰلِمِیْنَ
۟
وَقَالَ
الَّذِیْ
نَجَا
مِنْهُمَا
وَادَّكَرَ
بَعْدَ
اُمَّةٍ
اَنَا
اُنَبِّئُكُمْ
بِتَاْوِیْلِهٖ
فَاَرْسِلُوْنِ
۟
یُوْسُفُ
اَیُّهَا
الصِّدِّیْقُ
اَفْتِنَا
فِیْ
سَبْعِ
بَقَرٰتٍ
سِمَانٍ
یَّاْكُلُهُنَّ
سَبْعٌ
عِجَافٌ
وَّسَبْعِ
سُنْۢبُلٰتٍ
خُضْرٍ
وَّاُخَرَ
یٰبِسٰتٍ ۙ
لَّعَلِّیْۤ
اَرْجِعُ
اِلَی
النَّاسِ
لَعَلَّهُمْ
یَعْلَمُوْنَ
۟
قَالَ
تَزْرَعُوْنَ
سَبْعَ
سِنِیْنَ
دَاَبًا ۚ
فَمَا
حَصَدْتُّمْ
فَذَرُوْهُ
فِیْ
سُنْۢبُلِهٖۤ
اِلَّا
قَلِیْلًا
مِّمَّا
تَاْكُلُوْنَ
۟
ثُمَّ
یَاْتِیْ
مِنْ
بَعْدِ
ذٰلِكَ
سَبْعٌ
شِدَادٌ
یَّاْكُلْنَ
مَا
قَدَّمْتُمْ
لَهُنَّ
اِلَّا
قَلِیْلًا
مِّمَّا
تُحْصِنُوْنَ
۟
ثُمَّ
یَاْتِیْ
مِنْ
بَعْدِ
ذٰلِكَ
عَامٌ
فِیْهِ
یُغَاثُ
النَّاسُ
وَفِیْهِ
یَعْصِرُوْنَ
۟۠

اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو کھا رہی ہیں سات دبلی گائیں اور سات بالیاں ہیں ہری اور دوسری (سات) خشک تو اے میرے درباریو ! مجھے بتاؤ تعبیر میرے خواب کی اگر تم لوگ خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو (43) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے (44) اور کہا اس شخص نے جو ان دونوں (قیدیوں) میں سے نجات پا گیا تھا اور ایک طویل عرصے کے بعد اسے (اچانک) یاد آگیا (اس نے کہا) میں بتادوں گا تم لوگوں کو اس کی تعبیر بس مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیں (45) اے یوسف ! اے راست باز ! ہمیں تعبیر بتائیے سات موٹی گائیوں کے بارے میں کہ انہیں کھا رہی ہیں سات دبلی اور سات سبز بالیوں اور دوسری (سات) خشک بالیوں کے بارے میں تاکہ میں واپس جاؤں (تعبیر لے کر) ان لوگوں کے پاس تاکہ انہیں بھی معلوم ہوجائے (46) یوسف نے (تعبیر بتاتے ہوئے) فرمایا کہ تم سات سال تک خوب زراعت کرو گے لگاتار تو (اس دوران میں) جو فصل بھی تم کاٹو اسے رہنے دینا اس کی بالیوں ہی میں سوائے اس قلیل تعداد کے جو تم کھاؤ (47) پھر اس کے بعد سات سال آئیں گے بہت سخت وہ (سات سال) چٹ کر جائیں گے اس کو جو کچھ تم نے ان کے لیے بچا رکھا ہوگا سوائے اس کے جو تم (بیج کے لیے) محفوظ کرلو گے (48) پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال کہ اس میں خوب بارشیں ہوں گی لوگوں پر اور اس میں وہ (انگور کا) رس نچوڑیں گے (49)
–سورہ يوسف [12:43-49]
ولما فصلت العير قال ابوهم اني لاجد ريح يوسف لولا ان تفندون ٩٤ قالوا تالله انك لفي ضلالك القديم ٩٥ فلما ان جاء البشير القاه على وجهه فارتد بصيرا قال الم اقل لكم اني اعلم من الله ما لا تعلمون ٩٦ قالوا يا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا كنا خاطيين ٩٧ قال سوف استغفر لكم ربي انه هو الغفور الرحيم ٩٨ فلما دخلوا على يوسف اوى اليه ابويه وقال ادخلوا مصر ان شاء الله امنين ٩٩ ورفع ابويه على العرش وخروا له سجدا وقال يا ابت هاذا تاويل روياي من قبل قد جعلها ربي حقا وقد احسن بي اذ اخرجني من السجن وجاء بكم من البدو من بعد ان نزغ الشيطان بيني وبين اخوتي ان ربي لطيف لما يشاء انه هو العليم الحكيم ١٠٠
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ٩٤ قَالُواْ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَـٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ ٩٥ فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٩٦ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔينَ ٩٧ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٩٨ فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُواْ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ٩٩ وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَـٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ١٠٠

وَلَمَّا
فَصَلَتِ
الْعِیْرُ
قَالَ
اَبُوْهُمْ
اِنِّیْ
لَاَجِدُ
رِیْحَ
یُوْسُفَ
لَوْلَاۤ
اَنْ
تُفَنِّدُوْنِ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
اِنَّكَ
لَفِیْ
ضَلٰلِكَ
الْقَدِیْمِ
۟
فَلَمَّاۤ
اَنْ
جَآءَ
الْبَشِیْرُ
اَلْقٰىهُ
عَلٰی
وَجْهِهٖ
فَارْتَدَّ
بَصِیْرًا ۚ
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكُمْ ۙۚ
اِنِّیْۤ
اَعْلَمُ
مِنَ
اللّٰهِ
مَا
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
اسْتَغْفِرْ
لَنَا
ذُنُوْبَنَاۤ
اِنَّا
كُنَّا
خٰطِـِٕیْنَ
۟
قَالَ
سَوْفَ
اَسْتَغْفِرُ
لَكُمْ
رَبِّیْ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ
۟
فَلَمَّا
دَخَلُوْا
عَلٰی
یُوْسُفَ
اٰوٰۤی
اِلَیْهِ
اَبَوَیْهِ
وَقَالَ
ادْخُلُوْا
مِصْرَ
اِنْ
شَآءَ
اللّٰهُ
اٰمِنِیْنَ
۟ؕ
وَرَفَعَ
اَبَوَیْهِ
عَلَی
الْعَرْشِ
وَخَرُّوْا
لَهٗ
سُجَّدًا ۚ
وَقَالَ
یٰۤاَبَتِ
هٰذَا
تَاْوِیْلُ
رُءْیَایَ
مِنْ
قَبْلُ ؗ
قَدْ
جَعَلَهَا
رَبِّیْ
حَقًّا ؕ
وَقَدْ
اَحْسَنَ
بِیْۤ
اِذْ
اَخْرَجَنِیْ
مِنَ
السِّجْنِ
وَجَآءَ
بِكُمْ
مِّنَ
الْبَدْوِ
مِنْ
بَعْدِ
اَنْ
نَّزَغَ
الشَّیْطٰنُ
بَیْنِیْ
وَبَیْنَ
اِخْوَتِیْ ؕ
اِنَّ
رَبِّیْ
لَطِیْفٌ
لِّمَا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْعَلِیْمُ
الْحَكِیْمُ
۟

اور جب قافلہ چلا (مصر سے تو) ان کے والدنے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں (94) انہوں (گھر والوں) نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ تو اپنے اسی پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں (95) تو جب آیا بشارت دینے والا اور اس نے ڈالا اس (قمیص) کو یعقوب کے چہرے پر تو آپ پھر سے ہوگئے دیکھنے والے آپ نے فرمایا : کیا میں تم سے کہتا نہیں تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جو تم نہیں جانتے (96) انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے یقیناً ہم ہی خطاکار تھے (97) آپ نے فرمایا : عنقریب میں مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اپنے رب سے یقیناً وہی ہے بخشش والا بہت رحم کرنے والا (98) پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور کہا کہ اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں اللہ نے چاہا تو پورے امن و چین کے ساتھ (یہاں رہیں) (99) اور آپ نے اپنے والدین کو اونچے تخت پر بٹھایا اور وہ سب کے سب یوسف کے سامنے سجدے میں گرگئے اور یوسف نے کہا : ابا جان ! یہ ہے تعبیر اس خواب کی جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے رب نے اس کو سچا کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بہت احسان کیا جب مجھے قیدخانے سے نکلوایا اور آپ لوگوں کو (یہاں) لے آیا صحرا سے اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دشمنی ڈال دی تھی یقیناً میرا رب غیر محسوس طور پر تدبیر کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ یقیناً وہی ہے ہر شے کا علم رکھنے والا حکمت والا (100)
–سورہ يوسف [12:94-100]
۞ رب قد اتيتني من الملك وعلمتني من تاويل الاحاديث فاطر السماوات والارض انت وليي في الدنيا والاخرة توفني مسلما والحقني بالصالحين ١٠١
۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ ١٠١

رَبِّ
قَدْ
اٰتَیْتَنِیْ
مِنَ
الْمُلْكِ
وَعَلَّمْتَنِیْ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ ۚ
فَاطِرَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ۫
اَنْتَ
وَلِیّٖ
فِی
الدُّنْیَا
وَالْاٰخِرَةِ ۚ
تَوَفَّنِیْ
مُسْلِمًا
وَّاَلْحِقْنِیْ
بِالصّٰلِحِیْنَ
۟

اے میرے رب ! تو نے مجھے حکومت بھی عطا کی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر (یا معاملہ فہمی) کا علم بھی سکھایا ہے اے وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے توُ ہی میرا کارساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مجھے وفات دیجیو فرمانبرداری کی حالت میں اور مجھے شامل کر دیجیو اپنے صالح بندوں میں
–سورہ يوسف [12:101]

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔