Đăng nhập
Vươn xa hơn sau Ramadan!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
11:40
حتى اذا جاء امرنا وفار التنور قلنا احمل فيها من كل زوجين اثنين واهلك الا من سبق عليه القول ومن امن وما امن معه الا قليل ٤٠
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ ۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٌۭ ٤٠
حَتَّىٰٓ
إِذَا
جَآءَ
أَمۡرُنَا
وَفَارَ
ٱلتَّنُّورُ
قُلۡنَا
ٱحۡمِلۡ
فِيهَا
مِن
كُلّٖ
زَوۡجَيۡنِ
ٱثۡنَيۡنِ
وَأَهۡلَكَ
إِلَّا
مَن
سَبَقَ
عَلَيۡهِ
ٱلۡقَوۡلُ
وَمَنۡ
ءَامَنَۚ
وَمَآ
ءَامَنَ
مَعَهُۥٓ
إِلَّا
قَلِيلٞ
٤٠
Mãi đến khi lệnh của TA được ban hành với dấu hiệu nước sẽ phun lên từ lò lửa. TA bảo (Nuh): “Ngươi hãy mang lên tàu tất cả mỗi loài vật một cặp (đực và cái) và gia đình Ngươi cùng những người có đức tin, trừ những kẻ mà lời hứa trừng phạt đã định cho chúng.” Tuy nhiên, số lượng những người có đức tin cùng với Y thật quá ít.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
قوم نوح پر عذاب الٰہی کا نزول ٭٭

حسب فرمان ربی «فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ» [54-القمر:14-11] ‏ ” آسمان سے موسلا دھار لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی اور جہاں تک منظور رب تھا پانی بھر گیا اور نوح علیہ السلام کو رب العالمین نے اپنی نگاہوں کے سامنے چلنے والی کشتی پر سوار کر دیا۔ اور کافروں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچا دیا “۔

تنور کے ابلنے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب ہے کہ ”روئے زمین سے چشمے پھوٹ پڑے یہاں تک کہ آگ کی جگہ تنور میں سے بھی پانی ابل پڑا۔‏“ یہی قول جمہور سلف و خلف ہے کا ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”تنور صبح کا نکلنا اور فجر کا روشن ہونا ہے“، یعنی صبح کی روشنی اور فجر کی چمک لیکن زیادہ غالب پہلا قول ہے۔

مجاہد اور شعبی رحمہ اللہ علیہما کہتے ہیں یہ تنور کوفے میں تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”ہند میں ایک نہر ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جزیرہ میں ایک نہر ہے جسے «عین الوردہ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ سب اقوال غریب ہیں۔

الغرض ان علامتوں کے ظاہر ہوتے ہی نوح علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوا کہ اپنے ساتھ کشتی میں جاندار مخلوق میں سے ہر قسم کا ایک ایک جوڑا نر مادہ سوار کر لو۔ کہا گیا ہے کہ غیر جاندار کے لیے بھی یہی حکم تھا۔ جیسا نباتات۔ کہا گیا ہے کہ پرندوں میں سب سے پہلے درہ کشتی میں آیا اور سب سے آخر میں گدھا سوار ہونے لگا۔ ابلیس اس کی دم میں لٹک گیا جب اس کے دو اگلے پاؤں کشتی میں آ گئے اس کا اپنا دھڑ اٹھانا چاہا تو نہ اٹھا سکا کیونکہ دم پر اس ملعون کا بوجھ تھا۔ نوح علیہ السلام جلدی کر رہے تھے یہ بہتیرا چاہتا تھا مگر پچھلے پاؤں چڑھ نہیں سکتے تھے۔ آخر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”آج تیرے ساتھ ابلیس بھی ہو آیا“ تب وہ چڑھ گیا اور ابلیس بھی اس کے ساتھ ہی آیا۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ شیر کو اپنے ساتھ لے جانا مشکل ہو گیا، آخر اسے بخار چڑھ آیا تب اسے سوار کر لیا۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوح علیہ السلام نے جب تمام مویشی اپنی کشتی میں سوار کر لیے تو لوگوں نے کہا شیر کی موجودگی میں یہ مویشی کیسے آرام سے رہ سکیں گے؟ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بخار ڈال دیا۔ اس سے پہلے زمین پر یہ بیماری نہ تھی۔ پھر لوگوں نے چوہے کی شکایت کی یہ ہمارا کھانا اور دیگر چیزیں خراب کر رہے ہیں تو اللہ کے حکم سے شیر کی چھینک میں سے ایک بلی نکلی جس سے چوہے دبک کر کونے کھدرے میں بیٹھ رہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18154:مرسل] ‏

صفحہ نمبر3844

نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ ” اپنے گھر والوں کو بھی اپنے ساتھ کشتی میں بٹھالو مگر ان میں سے جو ایمان نہیں لائے انہیں ساتھ نہ لینا “۔

آپ علیہ السلام کا لڑکا حام بھی انہیں کافروں میں تھا وہ الگ ہو گیا۔ یا آپ علیہ السلام کی بیوی کہ وہ بھی اللہ کے رسول علیہ السلام کی منکر تھی اور ” اپنی قوم کے تمام مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ بٹھالے “، لیکن ان مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ساڑھے نو سو سال کے قیام کی طویل مدت میں آپ علیہ السلام پر بہت ہم کم لوگ ایمان لائے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”کل اسی (‏80) آدمی تھے جن میں عورتیں بھی تھیں۔‏“ کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سب بہتر (‏72) اشخاص تھے۔‏“ ایک قول ہے ”صرف دس (‏10) آدمی تھے۔‏“ ایک قول ہے نوح علیہ السلام تھے اور ان کے تین لڑکے تھے سام، حام، یافث اور چار عورتیں تھیں۔ تین تو ان تینوں کی بیویاں اور چوتھی حام کی بیوی اور کہا گیا ہے کہ خود نوح علیہ السلام کی بیوی۔‏“ لیکن اس میں نظر ہے ظاہر یہ ہے نوح علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اپنی قوم کے دین پر ہی تھی تو جس طرح لوط علیہ السلام کی بیوی قوم کے ساتھ ہلاک ہوئی اسی طرح یہ بھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ وَأَحْكَمُ»

صفحہ نمبر3845
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Quyên góp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.