Đăng nhập
Vươn xa hơn sau Ramadan!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
11:44
وقيل يا ارض ابلعي ماءك ويا سماء اقلعي وغيض الماء وقضي الامر واستوت على الجودي وقيل بعدا للقوم الظالمين ٤٤
وَقِيلَ يَـٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَـٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٤٤
وَقِيلَ
يَٰٓأَرۡضُ
ٱبۡلَعِي
مَآءَكِ
وَيَٰسَمَآءُ
أَقۡلِعِي
وَغِيضَ
ٱلۡمَآءُ
وَقُضِيَ
ٱلۡأَمۡرُ
وَٱسۡتَوَتۡ
عَلَى
ٱلۡجُودِيِّۖ
وَقِيلَ
بُعۡدٗا
لِّلۡقَوۡمِ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٤٤
(Sau khi tất cả mọi thứ bị nhấn chìm, Allah) phán: “Hỡi đất, hãy nuốt nước của ngươi lại. Hỡi bầu trời, hãy ngưng mưa của ngươi lại.” Vậy là nước rút xuống và sự việc đã xong. Con tàu (của Nuh) đậu trên núi Al-Judi. Và có lời bảo: “Thật đáng đời cho những kẻ làm điều sai trái!”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
طوفان نوح علیہ السلام کی روداد ٭٭

روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو درحقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر علیہ السلام کی بد دعا کا عذاب تھا غرق ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عزوجل نے زمین کو اس پانی کے نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اگلا ہوا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہو گیا۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہو گیا یعنی تمام کافر نابود ہوگئے، صرف کشتی والے مومن ہی بچے۔ کشتی بحکم ربی جودی پر رکی۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ”یہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے سب پہاڑ ڈبو دیئے گئے تھے اور یہ پہاڑ بوجہ اپنی عاجزی اور تواضع کے غرق ہونے سے بچ رہا تھا یہیں کشتی نوح علیہ السلام لنگر انداز ہوئی۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مہینے بھر تک یہیں لگی رہی اور سب اتر گئے اور کشتی لوگوں کی عبرت کے لیے یہیں ثابت و سالم رکھی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اول لوگوں نے بھی اسے دیکھ لیا۔ حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط سینکڑوں کشتیاں بنیں بگڑیں بلکہ راکھ اور خاک ہو گئیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جودی نام کا پہاڑ موصل میں ہے۔‏“ بعض کہتے ہیں طور پہاڑ کو ہی جودی بھی کہتے ہیں۔ زربن حبیش کو ابواب کندہ سے داخل ہو کر دائیں طرف کے زاویہ میں نماز بکثرت پڑھتے ہوئے دیکھ کر نوبہ بن سالم نے پوچھا کہ ”آپ جو جمعہ کے دن برابر یہاں اکثر نماز پڑھا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟“ تو آپ نے جواب دیا کہ ”کشتی نوح علیہ السلام یہیں لگی تھی۔‏“

صفحہ نمبر3850

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بال بچوں سمیت کل اسی (‏80) آدمی تھے۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی میں ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے کشتی کا منہ مکہ شریف کی طرف کر دیا۔ یہاں وہ چالیس دن تک بیت اللہ شریف کا طواف کرتی رہی۔ پھر اسے اللہ تعالیٰ نے جودی کی طرف روانہ کر دیا، وہاں وہ ٹھہر گئی۔ نوح علیہ السلام نے کوے کو بھیجا کہ وہ خشکی کی خبر لائے۔ وہ ایک مردار کے کھانے میں لگ گیا اور دیر لگا دی۔ آپ علیہ السلام نے ایک کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتوں کے درخت کا پتہ اور پنجوں میں مٹی لے کر واپس آیا۔ اس سے نوح علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ پانی سوکھ گیا ہے اور زمین ظاہر ہو گئی ہے۔ پس آپ علیہ السلام جودی کے نیچے اترے اور وہیں ایک بستی کی بناء ڈال دی جسے «ثمانین» کہتے ہیں۔ ایک دن صبح کو جب لوگ جاتے تو ہر ایک کی زبان بدلی ہوئی تھی۔ ایسی زبانیں بولنے لگے جن میں سب سے اعلیٰ اور بہترین عربی زبان تھی۔ ایک کو دوسرے کا کلام سمجھنا محال ہو گیا۔ نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب زبانیں معلوم کرا دیں، آپ علیہ السلام ان سب کے درمیان مترجم تھے۔ ایک کا مطلب دوسرے کو سمجھا دیتے تھے۔‏“ کعب احبار فرماتے ہیں کہ ”کشتی نوح علیہ السلام مشرق مغرب کے درمیان چل پھر رہی تھی پھر جودی پر ٹھہر گئی۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”رجب کی دسویں تاریخ مسلمان اس میں سوار ہوئے تھے پانچ ماہ تک اسی میں رہے انہیں لے کر کشتی جودی پر مہینے بھر تک ٹھہری رہی۔ آخر محرم کے عاشورے کے دن وہ سب اس میں سے اترے۔‏“ اسی قسم کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن جریر میں ہے، انہوں نے اس دن روزہ بھی رکھا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18202:مرسل و ضعیف] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے چند یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتارا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو دیا تھا۔ اور اسی دن کشتی نوح علیہ السلام جودی پر لگی تھی۔ پس ان دونوں پیغمبروں علیہما السلام نے شکر الٰہی کا روزہ اس دن رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”پھر موسیٰ علیہ السلام کا سب سے زیادہ حقدار میں ہوں اور اس دن کے روزے کا میں زیادہ مستحق ہوں۔‏“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم میں سے جو آج روزے سے ہو وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جو ناشتہ کر چکا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے ۔ [مسند احمد:359/2:صحیح لغیره] ‏ یہ روایت اس سند سے تو غریب ہے لیکن اس کے بعض حصے کے شاہد صحیح حدیث میں بھی موجود ہیں۔

صفحہ نمبر3851

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” ظالموں کو خسارہ، ہلاکت اور رحمت حق سے دوری ہوئی “۔ وہ سب ہلاک ہوئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔

تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ قوم نوح علیہ السلام میں سے کسی پر بھی رحم کرنے والا ہوتا تو اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔‏“ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک ٹھہرے آپ علیہ السلام نے ایک درخت بویا تھا جو سو سال تک بڑھتا اور بڑا ہوتا رہا پھر اسے کاٹ کر تختے بنا کر کشتی بنانی شروع کی۔ کافر لوگ مذاق اڑاتے کہ یہ اس خشکی میں کشتی کیسے چلائیں گے؟ آپ علیہ السلام جواب دیتے تھے کہ ”عنقریب اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‏“ جب آپ علیہ السلام بنا چکے اور پانی زمین سے ابلنے اور آسمان سے برسنے لگا اور گلیاں اور راستے پانی سے ڈوبنے لگے تو اس بچے کی ماں جسے اپنے اس بچے سے غایت درجے کی محبت کی تھی وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف چلی گئی اور جلدی جلدی اس پر چڑھنا شروع کیا، تہائی حصے پر چڑھ گئی لیکن جب اس نے دیکھا کہ پانی وہاں بھی پہنچا تو اور اوپر کو چڑھی۔ دو تہائی کو پہنچی جب پانی وہاں بھی پہنچا تو اس نے چوٹی پر جا کر دم لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچ گیا جب گردن گردن پانی چڑھ گیا تو اس نے اپنے بچے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اونچا اٹھا لیا لیکن پانی وہاں بھی پہنچا اور ماں بچہ دنوں غرق ہو گئے۔ پس اگر اس دن کوئی کافر بھی بچنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:5985:منکر] ‏ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے کہ کعب احبار، مجاہد اور ابن جبیر سے بھی اس بچے اور اس کی ماں کا یہی قصہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر3852
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Quyên góp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.