Đăng nhập
Vươn xa hơn sau Ramadan!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
11:79
قالوا لقد علمت ما لنا في بناتك من حق وانك لتعلم ما نريد ٧٩
قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ٧٩
قَالُواْ
لَقَدۡ
عَلِمۡتَ
مَا
لَنَا
فِي
بَنَاتِكَ
مِنۡ
حَقّٖ
وَإِنَّكَ
لَتَعۡلَمُ
مَا
نُرِيدُ
٧٩
(Đám dân của Lut) nói: “Quả thật, ngươi đã biết rõ rằng bọn ta không cần những đứa con gái của Ngươi và Ngươi cũng biết quá rõ bọn ta muốn gì.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 11:77 đến 11:79
لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ” جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا “۔‏“

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔

صفحہ نمبر3888

اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔

اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔‏“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ” ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے “۔

قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» [15-الحجر:70] ‏ ” اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو “۔

لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» [15-الحجر:72-71] ‏ ” عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے “۔

صفحہ نمبر3889

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔

امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔‏“

فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔ اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔

صفحہ نمبر3890
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Quyên góp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.