Đăng nhập
Vươn xa hơn sau Ramadan!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
56:69
اانتم انزلتموه من المزن ام نحن المنزلون ٦٩
ءَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ ٱلْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنزِلُونَ ٦٩
ءَأَنتُمۡ
أَنزَلۡتُمُوهُ
مِنَ
ٱلۡمُزۡنِ
أَمۡ
نَحۡنُ
ٱلۡمُنزِلُونَ
٦٩
Có phải các ngươi đã ban nó xuống từ những đám mây hay chính TA là Đấng đã ban nó xuống?
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Các câu thơ liên quan
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 56:63 đến 56:74
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔

ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏

امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔

پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔

«مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔

عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏

«مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔

ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9237

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔

صفحہ نمبر9238
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Quyên góp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.