Đăng nhập
Vươn xa hơn sau Ramadan!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
7:16
قال فبما اغويتني لاقعدن لهم صراطك المستقيم ١٦
قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ ١٦
قَالَ
فَبِمَآ
أَغۡوَيۡتَنِي
لَأَقۡعُدَنَّ
لَهُمۡ
صِرَٰطَكَ
ٱلۡمُسۡتَقِيمَ
١٦
(Iblis) nói: “Vì Ngài xua đuổi bề tôi, bề tôi quyết sẽ lôi kéo chúng (con cháu của Adam) lệch khỏi con đường ngay chính của Ngài.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:16 đến 7:17
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ٭٭

ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری، میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا، تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔

بعض نحوی کہتے ہیں کہ «فَبِمَا» میں «با» قسم کے لیے ہے یعنی مجھے قسم ہے، میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں: میں مکے کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔

صفحہ نمبر2868

چنانچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے۔ وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے آڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے؟ اپنی زمین و آسمان سے کیوں الگ ہوتا ہے؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گزرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لیے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے؟ وہاں قتل کر دیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مر جائیں۔ [مسند احمد:483/3:حسن] ‏

اس دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا۔ دائیں طرف سے آنا، امر دین کو مشکوک کرنا ہے۔ بائیں طرف سے آنا، گناہوں کو لذیذ بنانا ہے۔ شیطانوں کا یہی کام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے: میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں، بھلائیاں سب تباہ کر دینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا۔ وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت، دوزخ، قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے: دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے۔ وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے: خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے: دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں۔ پس ہر طرف سے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے۔ ہاں! یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آ سکتا۔ اللہ کے اور بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیچھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں، یہ سبب اقوال ٹھیک ہیں۔

صفحہ نمبر2869

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور شر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں۔ وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے، وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔

ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلاَّ فَرِيقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ـ وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِّن سُلْطَـنٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالاٌّخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ حَفُيظٌ» [34-سبأ:20-21] ‏ یعنی ” ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا۔ سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں! ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کر دینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر چیز کا حافظ ہے۔ “

مسند بزار کی ایک حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» [طبرانی فی الدعا:1297:ضعیف] ‏

مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح و شام اس دعا کو پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ [سنن ابوداود:5074، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2870
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Quyên góp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.