登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
10:97
ولو جاءتهم كل اية حتى يروا العذاب الاليم ٩٧
وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءَايَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ ٩٧
وَلَوۡ
جَآءَتۡهُمۡ
كُلُّ
ءَايَةٍ
حَتَّىٰ
يَرَوُاْ
ٱلۡعَذَابَ
ٱلۡأَلِيمَ
٩٧
即使每种迹象都降临他们,直到他们看见痛苦的刑罚。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
10:96至10:98节的经注

انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے۔ مگر کسی حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتاہے اور اسی دینے کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اپنے مفاد کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے۔ یہ اندیشے آدمی کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس چیز کا جواب اس کو قبولیت اوراعتراف سے دینا چاہیے تھا اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔

آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہیں کہ وہ ایک بار جس رخ پر چل پڑے اسی رخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے۔ کیوں کہ ہر آنے والے دن وہ اپنے فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتاہے۔ یہاںتک وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس آجائے۔

اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لیے ایسے الفاظ بولتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ان کا کیس نظریاتی کیس ہے۔ مگر حقیقۃً وہ صرف ضد اور تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے جو اپنی دنیوی مصلحتوں کی خاطر اختیا رکیا جاتا ہے۔ تاہم عذاب خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائے گا۔ خوف کی حالت اس کو اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کردے گی جس کے آگے وہ بے خوفی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔

پچھلے زمانہ میں جتنے رسول آئے سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انھوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب تک خدا انھیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا، انھوں نے نہیں مانا اور جب خدا نے انھیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا ماننا خدا کے یہاں معتبر نہیں۔ خدا کو وہ ماننا مطلوب ہے جب کہ آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے، نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے۔

حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ میں بھیجے گئے۔ انھوں نے وہاں تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخر حضرت یونس نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینویٰ سے چلے گئے کہ اب تمھارے اوپر خدا کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئیں۔ مگر اس وقت انھوں نے وہ نہ کیا جو قوم ہود نے کیا تھا کہ انھوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لیے بارش برسانے آرہا ہے۔ قوم یونس کے اندر فوراً چونک پیدا ہوگئی۔ سارے لوگ اپنے مویشیوں اور عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہوگئے اور خداکے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعدعذاب ان سے اٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہور عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے اسی طرح وقوع عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابل اعتبار ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قوم یونس کا ایمان تھا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有