登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
19:36
وان الله ربي وربكم فاعبدوه هاذا صراط مستقيم ٣٦
وَإِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ هَـٰذَا صِرَٰطٌۭ مُّسْتَقِيمٌۭ ٣٦
وَإِنَّ
ٱللَّهَ
رَبِّي
وَرَبُّكُمۡ
فَٱعۡبُدُوهُۚ
هَٰذَا
صِرَٰطٞ
مُّسۡتَقِيمٞ
٣٦
真主确是我的主,也确是你们的主,所以你们应当崇拜他。这是正路。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
19:34至19:37节的经注
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭

[2-البقرة:147] ‏اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [2-البقرة:147] ‏، میں۔

یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ” اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے “۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔

جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» [3-آل عمران:59-60] ‏ یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے “۔

صفحہ نمبر5072

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔‏“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔

عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔

صفحہ نمبر5073

کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔

چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔

صفحہ نمبر5074

اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔

بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔

صفحہ نمبر5075

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ یعنی ” تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے “۔

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ‏ ” بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔

اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ‏ ” ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی “۔

یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ” ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی “۔

صفحہ نمبر5076

صحیح حدیث میں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔ [صحیح بخاری:3435] ‏

صفحہ نمبر5077
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有