登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
34:23
ولا تنفع الشفاعة عنده الا لمن اذن له حتى اذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير ٢٣
وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَـٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥ ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا۟ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ٢٣
وَلَا
تَنفَعُ
ٱلشَّفَٰعَةُ
عِندَهُۥٓ
إِلَّا
لِمَنۡ
أَذِنَ
لَهُۥۚ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
فُزِّعَ
عَن
قُلُوبِهِمۡ
قَالُواْ
مَاذَا
قَالَ
رَبُّكُمۡۖ
قَالُواْ
ٱلۡحَقَّۖ
وَهُوَ
ٱلۡعَلِيُّ
ٱلۡكَبِيرُ
٢٣
除真主所许可者外,在真主那里,说情将无裨益。直到他们心中的恐惧被排除的时候,他们才说:你们的主说了什么?他们说:真理。他确是至尊的,确是至大的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی ٭٭

اس کی عظمت و کبریائی عزت و بڑائی ایسی ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی جرات نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے بھی لب ہلا سکے۔

جیسے فرمان ہے «مَن ذَا الَّذي يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ» [2-البقرة:255] ‏ ” کون ہے؟ جو اس کے سامنے کسی کی شفاعت بغیر اس کی رضا مندی کے بغیر کر سکے “

اور آیت میں ہے «وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيَرْضٰى» [53-النجم:26] ‏ الخ، یعنی ” آسمانوں کے کل فرشتے بھی اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے لب ہلا نہیں سکتے مگر جس کے لیے اللہ اپنی رضا مندی سے اجازت دے دے۔ “

ایک اور جگہ فرمان ہے «وَلَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ» [21-الأنبياء:28] ‏ الخ، ” وہ لوگ صرف ان کی شفاعت کر سکتے ہیں جن کے لیے اللہ کی رضا مندی ہو وہ تو خود ہی اس کے خوف سے تھرا رہے ہیں۔ “

تمام اولاد آدم کے سردار سب سے بڑے شفیع اور سفارشی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قیامت کے دن مقام محمود میں شفاعت کے لیے تشریف لے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آئے اور مخلوق کے فیصلے کرے اس وقت کی نسبت آپ فرماتے ہیں میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اللہ ہی جانتا ہے کہ کب تک سجدے میں پڑا رہوں گا اس سجدے میں اس قدر اپنے رب کی تعریفیں بیان کروں گا۔ کہ اس وقت تو وہ الفاظ بھی مجھے معلوم نہیں۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا۔ آپ شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی۔ [صحیح بخاری:7410] ‏

صفحہ نمبر7188

رب کی عظمت کا ایک مقام بیان ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی وحی میں کلام کرتا ہے اور آسمانوں کے مقرب فرشتے اسے سنتے ہیں تو ہیبت سے کانپ اٹھتے ہیں اور غشی والے کی طرح ہو جاتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ ہٹ جاتی ہے۔

«‏فزع» ‏ کی دوسری قرأت «‏فزغ» ‏ بھی آئی ہے مطلب دونوں کا ایک ہے۔ تو اب آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ اس وقت رب کا کیا حکم نازل ہوا؟ پس اہل عرش اپنے پاس والوں کو وہ اپنے پاس والوں کو یونہی درجہ بدرجہ حکم پہنچا دیتے ہیں۔ بلا کم و کاست ٹھیک ٹھیک اسی طرح پہنچا دیتے ہیں۔

ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب سکرات کا وقت آتا ہے۔ اس وقت مشرک یہ کہتے ہیں اور قیامت کے دن بھی جب اپنی غفلت سے چونکیں گے اور ہوش و حواس قائم ہو جائیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب ملے گا کہ حق فرمایا، حق فرمایا اور جس چیز سے دنیا میں بےفکر تھے آج اس کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔ تو دلوں سے گھبراہٹ دور کئے جانے کے یہ معنی ہوئے کہ جب آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اس وقت سب شک و تکذیب الگ ہو جائیں گے۔ شیطانی وساوس دور ہو جائیں گے اس وقت رب کے وعدوں کی حقانیت تسلیم کریں گے اور اس کی بلندی اور بڑائی کے قائل ہوں گے۔ پس نہ تو موت کے وقت کا اقرار نفع دے نہ قیامت کے میدان کا اقرار فائدہ پہنچائے لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی تفسیر ہی راجح ہے یعنی مراد اس سے فرشتے ہیں۔ اور یہی ٹھیک ہے اور اس کی تائید احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر7189

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ آسمان میں کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں اور رب کا کلام ایسا واقع ہوتا ہے جیسے اس زنجیر کی آواز جو پتھر پر بجائی جاتی ہو جب ہیبت کم ہو جاتی ہے۔ تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے اس وقت کیا فرمایا؟ جواب ملتا ہے کہ جو فرمایا حق ہے اور وہ اعلی و کبیر ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جو جنات فرشتوں کی باتیں سننے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں اور جو تہہ بہ تہہ ایک دوسروں کے اوپر ہیں وہ کوئی کلمہ سن لیتے ہیں اوپر والا نیچے والے کو وہ اپنے سے نیچے والے کو سنا دیتا ہے اور وہ کاہنوں کے کانوں تک پہنچا دیتے ہیں ان کے پیچھے فوراً ان کے جلانے کو آگ کا شعلہ لپکتا ہے لیکن کبھی کبھی تو وہ اس کے آنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو پہنچا دیتا ہے اور کبھی پہنچانے سے پہلے ہی جلا دیا جاتا ہے۔ کاہن اس ایک کلمے کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلاتا ہے۔ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ اس کے مرید بن جاتے ہیں کہ دیکھو یہ بات اس کے کہنے کے مطابق ہی ہوئی۔ [صحیح بخاری:4701] ‏

صفحہ نمبر7190

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور زبردست روشنی ہو گئی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ جاہلیت میں تمہارا خیال ان ستاروں کے ٹوٹنے کی نسبت کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہم اس موقعہ پر سمجھتے تھے کہ یا تو کوئی بہت بڑا آدمی پیدا ہوا یا مرا۔ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا جاہلیت کے زمانے میں بھی ستارے جھڑتے تھے؟ کہا ہاں لیکن کم۔ آپ کی بعثت کے زمانے سے ان میں بہت زیادتی ہو گئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! انہیں کسی کی موت و حیات سے کوئی واسطہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کسی امر کا آسمانوں میں فیصلہ کرتا ہے تو حاملان عرش اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر ساتویں آسمان والے پھر چھٹے آسمان والے یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچتی ہے۔ پھر عرش کے آس پاس کے فرشتے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں پھر ہر نیچے والا اوپر والے سے دریافت کرتا ہے اور وہ اسے بتاتا ہے یہاں تک کہ آسمان اول والوں کو خبر پہنچتی ہے۔ کبھی اچک لے جانے والے جنات اسے سن لیتے ہیں تو ان پر یہ ستارے جھڑتے ہیں تاہم جو بات اللہ کو پہنچانی منظور ہوتی ہے اسے وہ لے اڑتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت کچھ باطل اور جھوٹ ملا کر لوگوں میں شہرت دیتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2229] ‏

صفحہ نمبر7191

no t(fseer

صفحہ نمبر7192

ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی امر کی وحی کرتا ہے تو آسمان مارے خوف سے کپکپا اٹھتے ہیں اور فرشتے ہیبت زدہ ہو کر سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام سر اٹھاتے ہیں اور اللہ کا فرمان سنتے ہیں پھر ان کی زبانی فرشتے سنتے ہیں اور وہ کہتے جاتے ہیں کہ اللہ نے حق فرمایا وہ بلندی اور بڑائی والا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا امین فرشتہ جس کی طرف ہو اسے پہنچا دیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ اس وحی کا ذکر ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبیوں کے نہ ہونے کے زمانے میں بند ہو کر پھر ابتداء ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ابتدائی وحی کے بھی اس آیت کے تحت میں داخل ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن آیت اس کو اور سب کو شامل ہے۔

صفحہ نمبر7193
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有