登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
45:24
وقالوا ما هي الا حياتنا الدنيا نموت ونحيا وما يهلكنا الا الدهر وما لهم بذالك من علم ان هم الا يظنون ٢٤
وَقَالُوا۟ مَا هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ٢٤
وَقَالُواْ
مَا
هِيَ
إِلَّا
حَيَاتُنَا
ٱلدُّنۡيَا
نَمُوتُ
وَنَحۡيَا
وَمَا
يُهۡلِكُنَآ
إِلَّا
ٱلدَّهۡرُۚ
وَمَا
لَهُم
بِذَٰلِكَ
مِنۡ
عِلۡمٍۖ
إِنۡ
هُمۡ
إِلَّا
يَظُنُّونَ
٢٤
他们说:只有我们的今世生活,我们死的死,生的生,只有光阴能使我们消灭。他们对于那事,一无所知,他们专事猜测。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
45:24至45:26节的经注
زمانے کو گالی مت دو ٭٭

دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں۔

فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آ جاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی ہے نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے “۔

ابوداؤد وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ دہر کو (‏یعنی زمانے کو) گالیاں دیتا ہے دراصل زمانہ میں ہی ہوں تمام کام میرے ہاتھ ہیں دن رات کا ہیر پھیر کرتا ہوں“ ۔ [صحیح بخاری:4826] ‏

ایک روایت میں ہے دہر (‏زمانہ)‏ کو گالی نہ دو اللہ ہی زمانہ ہے ۔ [مسند احمد:299/5:صحیح] ‏

ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے ایک بالکل غریب سند سے وارد کیا ہے اس میں ہے اہل جاہلیت کا خیال تھا کہ ہمیں دن رات ہی ہلاک کرتے ہیں، وہی ہمیں مارتے جلاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں اسے نقل فرمایا ” وہ زمانے کو برا کہتے تھے “،پس اللہ عزوجل نے فرمایا ” مجھے ابن آدم ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں سب کام ہیں میں دن رات کا لے آنے لے جانے والا ہوں “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/11] ‏

صفحہ نمبر8413

ابن ابی حاتم میں ہے ابن آدم زمانے کو گالیاں دیتا ہے، میں زمانہ ہوں، دن رات میرے ہاتھ میں ہیں ۔ اور حدیث میں ہے میں نے اپنے بندے سے قرض طلب کیا اس نے مجھے نہ دیا، مجھے میرے بندے گالیاں دیں، وہ کہتا ہے ہائے ہائے زمانہ اور زمانہ میں ہوں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:92/25:] ‏

امام شافعی اور ابوعبیدہ رحمہا اللہ وغیرہ ائمہ لغت و تفسیر اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت کے عربوں کو جب کوئی بلا اور شدت و تکلیف پہنچتی تو وہ اسے زمانے کی طرف نسبت کرتے اور زمانے کو برا کہتے دراصل زمانہ خود تو کچھ کرتا نہیں ہر کام کا کرتا دھرتا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اس کا زمانے کو گالی دینا فی الواقع اسے برا کہنا تھا جس کی ہاتھ میں اور جس کے بس میں زمانہ ہے جو راحت و رنج کا مالک ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ «عزاسمہ» ہے۔

پس وہ گالی حقیقی فاعل یعنی اللہ تعالیٰ پر پڑتی ہے اس لیے اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اور لوگوں کو اس سے روک دیا“ یہی شرح بہت ٹھیک اور بالکل درست ہے۔

امام ابن حزم رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث سے جو یہ سمجھ لیا ہے کہ «دھر» اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے یہ بالکل غلط ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8414

پھر ان بےعلموں کی کج بخشی بیان ہو رہی ہے کہ قیامت قائم ہونے کی اور دوبارہ جلائے جانے کی بالکل صاف دلیلیں جب انہیں دی جاتی ہیں اور قائل معقول کر دیا جاتا ہے تو چونکہ جب کچھ بن نہیں پڑتا جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہمارے مردہ باپ دادوں پردادوں کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ» [2-البقرة:28] ‏ ” تم اپنا پیدا کیا جانا اور مر جانا تو اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہو کہ تم کچھ نہ تھے اور اس نے تمہیں موجود کر دیا پھر وہ تمہیں مار ڈالتا ہے “، «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم27] ‏ ” تو جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ جی اٹھانے پر قادر کیسے نہ ہو گا؟ “۔ بلکہ عقلًا ہدایت (‏واضح طور پر) کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ جو شروع شروع کسی چیز کو بنا دے اس پر دوبارہ اس کا بنانا بہ نسبت پہلی دفعہ کے بہت آسان ہوتا ہے۔

پس یہاں فرمایا کہ پھر وہ تمہیں قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا۔ وہ دنیا میں تمہیں دوبارہ لانے کا نہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ۔ یہ تو دارعمل ہے، دارجزا قیامت کا دن ہے، یہاں تو ہر ایک کو تھوڑی بہت تاخیر مل جاتی ہے جس میں وہ اگر چاہے اس دوسرے گھر کے لیے تیاریاں کر سکتا ہے بس اپنی بےعلمی کی بناء پر تمہیں اس کا انکار نہ کرنا چاہیے۔ «إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا» [70-المعارج:6،7] ‏ ” تم گو اسے دور جان رہے ہو لیکن دراصل وہ قریب ہی ہے “، تم گو اس کا آنا محال سمجھ رہے ہو لیکن فی الواقع اس کا آنا یقینی ہے، مومن باعلم اور ذی عقل ہیں کہ وہ اس پر یقین کامل رکھ کر عمل میں لگے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر8415
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有