登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
4:85
من يشفع شفاعة حسنة يكن له نصيب منها ومن يشفع شفاعة سيية يكن له كفل منها وكان الله على كل شيء مقيتا ٨٥
مَّن يَشْفَعْ شَفَـٰعَةً حَسَنَةًۭ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَـٰعَةًۭ سَيِّئَةًۭ يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌۭ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًۭا ٨٥
مَّن
يَشۡفَعۡ
شَفَٰعَةً
حَسَنَةٗ
يَكُن
لَّهُۥ
نَصِيبٞ
مِّنۡهَاۖ
وَمَن
يَشۡفَعۡ
شَفَٰعَةٗ
سَيِّئَةٗ
يَكُن
لَّهُۥ
كِفۡلٞ
مِّنۡهَاۗ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
مُّقِيتٗا
٨٥
谁谁赞助善事,谁得一份善报;谁赞助恶事,谁受一份恶报。真主对于万事是全能的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
4:84至4:85节的经注
حکم جہاد امتحان ایمان ہے ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ تنہا اپنی ذات سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہے کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابواسحاق رحمہ اللہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے جہاد کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے تو ممانعت تاکید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ» [2-البقرة:195] ‏ ” اپنے ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو۔ “ تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے اللہ کی راہ میں لڑ تجھے فقط تیرے نفس کی تکلیف دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مومنوں کو بھی ترغیب دیتا رہ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:5704/3:حسن] ‏

مسند احمد میں اتنا اور بھی ہے کہ مشرکین پر تنہا حملہ کرنے والا ہلاکت کی طرف بڑھنے والا نہیں بلہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رکنے والا ہے۔ [مسند احمد:281/4:حسن] ‏ اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت ہلاکت اتری تو آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا مجھے میرے رب نے جہاد کا حکم دیا ہے پس تم بھی جہاد کرو یہ حدیث غریب ہے۔ [الدر المنثور للسیوطی:335/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر1844

پھر فرماتا ہے مومنوں کو دلیری دلا اور انہیں جہاد کی رغبت دلا، چنانچہ بدر والے دن میدان جہاد میں مسلمانوں کی صفیں درست کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو اور بڑھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین ہے۔ [صحیح مسلم:1901] ‏جہاد کی ترغیب کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر1845

بخاری میں ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے، صلوۃ قائم کرے، زکوٰۃ دیتا رہے، رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا جہاں پیدا ہوا ہے وہیں ٹھہرا رہا ہو۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا لوگوں کو اس کی خوشخبری ہم نہ دے دیں؟ آپ نے فرمایا سنو جنت میں سو درجے ہیں جن میں سے ایک درجے میں اس قدر بلندی ہے جتنی زمین و آسمان میں اور یہ درجے اللہ نے ان کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں۔ پس جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ بہترین جنت ہے اور سب سے اعلیٰ ہے اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی سب نہریں جاری ہوتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول و نبی ہونے پر راضی ہو جائے اس کے لیے جنت واجب ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اسے سن کر خوش ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ارشاد ہو آپ نے دوبارہ اسی کو بیان فرما کر کہا ایک اور عمل ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سو درجے بلند کرتا ہے ایک درجے سے دوسرے درجے تک اتنی بلندی ہے جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے پوچھا وہ عمل کیا ہے؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد۔ [صحیح مسلم:1884] ‏

صفحہ نمبر1846

پھر ارشاد ہے جب آپ جہاد کے لیے تیار ہو جائیں گے مسلمان آپ کی تعلیم سے جہاد پر آمادہ ہو جائیں گے تو پھر اللہ کی مدد شامل حال ہو گی اللہ تعالیٰ کفر کی کمر توڑ دے گا کفار کی ہمت پست کر دے گا ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے پھر کیا مجال کہ وہ تمہارے مقابلے میں آئیں، اللہ تعالیٰ سے زیادہ جنگی قوت رکھنے والا اور اس سے زیادہ سخت سزا دینے والا کوئی نہیں، وہ قادر ہے کہ دنیا میں بھی انہیں مغلوب کرے اور یہیں انہیں عذاب بھی دے اسی طرح آخرت میں بھی اسی کو قدرت حاصل ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے۔ «وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ» [47-محمد:4] ‏ ” اگر اللہ چاہے ان سے از خود بدلہ لے لے، لیکن وہ ان کو اور تمہیں آزما رہا ہے۔ “ جو شخص کسی امر خیر میں کوشش کرے تو اسے بھی اس خیر بھلائی کا ثواب ملے گا، اور جو اس کے خلاف کوشش کرے اور بد نتیجہ برآمد کرے اس کی کوشش اور نیت کا اس پر بھی ویسا ہی بوجھ ہو گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سفارش کرو اجر پاؤ گے اور اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر وہ جاری کرے گا جو چاہے۔ [صحیح بخاری:1432] ‏

یہ آیت ایک دوسرے کی سفارش کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس مہربانی کو دیکھئیے فرمایا محض شفاعت پر ہی اجر مل جائے گا خواہ اس سے کام بنے یا نہ بنے، اللہ ہرچیز کا حافظ ہے، ہرچیز پر حاضر ہے، ہرچیز کا حساب لینے والا ہے، ہرچیز پر قادر ہے، ہرچیز کو دوام بخشنے والا ہے، ہر ایک کو روزی دینے والا ہے، ہر انسان کے اعمال کا اندازہ کرنے والا ہے۔

صفحہ نمبر1847
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有