登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
57:14
ينادونهم الم نكن معكم قالوا بلى ولاكنكم فتنتم انفسكم وتربصتم وارتبتم وغرتكم الاماني حتى جاء امر الله وغركم بالله الغرور ١٤
يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَٱرْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ ٱلْأَمَانِىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ ١٤
يُنَادُونَهُمۡ
أَلَمۡ
نَكُن
مَّعَكُمۡۖ
قَالُواْ
بَلَىٰ
وَلَٰكِنَّكُمۡ
فَتَنتُمۡ
أَنفُسَكُمۡ
وَتَرَبَّصۡتُمۡ
وَٱرۡتَبۡتُمۡ
وَغَرَّتۡكُمُ
ٱلۡأَمَانِيُّ
حَتَّىٰ
جَآءَ
أَمۡرُ
ٱللَّهِ
وَغَرَّكُم
بِٱللَّهِ
ٱلۡغَرُورُ
١٤
他们将喊叫信道的人们说:难道我们与你们不是同道吗?他们说:不然,你们自欺、观望、怀疑正道,种种妄想,欺骗你们,直到真主的命令来临,猾贼曾以真主的优容欺骗你们。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 14{ یُــنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّـعَکُمْ } ”وہ منافق انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟“ ہم تمہارے ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ عیدوں کی نمازوں میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ ہم نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں مہمات میں بھی حصہ لیا۔ ہر جگہ ‘ ہر مقام پر ہم تمہارے ساتھ ہی تو تھے۔ پھر آج تمہارے اور ہمارے مابین اتنا فرق و تفاوت کیوں ہے ؟ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی۔“ { وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ } ”لیکن تم نے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں فتنے میں ڈالا“ فتنہ کیا ہے ؟ قرآن مجید میں فتنے کی تین نسبتیں بیان کی گئی ہیں۔ کہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے کہ ہم نے ان کو فتنے میں ڈالا ہے کہ ہم آزما کر ظاہر کردیں کہ کون کھرا ہے ‘ کون کھوٹا ہے۔ دوسری نسبت ان کفار کی طرف کی گئی جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے اور انہیں فتنے میں ڈال رہے تھے۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالتا ہے۔ یعنی جو لوگ اہل و عیال اور متاع دنیوی کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی محبت کو اللہ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں وہ اپنے آپ کو فتنے میں مبتلا کرلیتے ہیں۔ اس فتنے کا ذکر سورة التغابن میں بایں الفاظ فرمایا گیا : { اِنَّمَآ اَمْوَالُـکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ} آیت 15 ”بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے حق میں فتنہ ہیں“۔ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں اپنے مال و متاع اور اہل و عیال کو عزیز ترجاننا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہاں پر سورة التوبہ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کرلیں :{ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘ تمہارے بیٹے ‘ تمہارے بھائی ‘ تمہاری بیویاں اور بیویوں کے لیے شوہر ‘ تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘ اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘ اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘ اگر یہ سب چیزیں تمہیں محبوب تر ہیں اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘ تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔“ اس آیت نے گویا ایک ترازو نصب کر کے اس کے ایک پلڑے میں آٹھ اور دوسرے میں تین محبتیں رکھ دی ہیں۔ اب ہر کوئی اپنے اپنے پلڑوں کی کیفیت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ تو اے گروہ منافقین ! تم خود بتائو تم نے اپنی زندگیوں میں ان میں سے کونسے پلڑے کو جھکا کر رکھا تھا ؟ آٹھ محبتوں والے پلڑے کو یا اللہ و رسول ﷺ اور جہاد کی محبت والے پلڑے کو ؟ ظاہر ہے دنیا میں تم لوگ دنیاداری کے تقاضوں کو ‘ اپنے مال و منال اور اہل و عیال کو اللہ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر ترجیح دیتے رہے ہو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ کرکے تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ { وَتَرَبَّصْتُمْ } ”اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے“ یہ وہی لفظ ہے جو سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت کے آخر میں فَتَرَبَّصُوْا آیا ہے۔ تَرَبُّص کے معنی انتظار کے بھی ہیں کہ آدمی کسی جگہ پر ٹھٹک کر کھڑا ہوجائے۔ ایمان و عمل کے معاملے میں یہ ”انتظار“ ہی دراصل فتنہ ہے۔ یہ ایمان کی ڈانواں ڈول کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے آدمی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ آگے بڑھوں یا نہ بڑھوں ! آگے بڑھتا ہوں تو جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور رکتا ہوں تو باز پرس کا ڈر ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ کچھ دیر انتظار کرتا ہوں ‘ اگر خطرہ ٹل گیا تو آگے بڑھ جائوں گا ‘ ورنہ پیچھے مڑ جائوں گا۔ اور باز پرس ہوگی تو جھوٹ بول کر جان بچا لوں گا۔ { وَارْتَبْتُمْ } ”اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے“ پھر تمہاری منافقت کا مرض بڑھ کر اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ یعنی پہلے اللہ کے مقابلے میں مال و اولاد کی محبت نے فتنے میں ڈالا ‘ اس کا نتیجہ ”تربُّص“ گومگو کی کیفیت کی صورت میں سامنے آیا۔ پھر اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے شروع ہوگئے کہ کیا پتا قیامت آئے گی بھی کہ نہیں ! معلوم نہیں یہ مر کر زندہ ہونے کی باتیں سچی اور واقعی ہیں یا محض افسانے ہیں ! یہ دنیا تو ایک حقیقت ہے ‘ لیکن آخرت کا کیا اعتبار ! یہاں کا عیش اور یہاں کے مزے تو نقد ہیں۔ اس آرام و آسائش کو اگر میں آخرت کے موہوم وعدے پر قربان کر دوں تو پتا نہیں اس کا اجر ملے گا بھی یا نہیں ! اس کے بعد اس مرض کی آخری نشانی بتائی گئی : { وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ } ”اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے“ ان خواہشات کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ وہ بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ ہم جو بھی ہیں ‘ جیسے بھی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کی امت ہیں۔ بالکل ایسا ہی زعم یہودیوں کو بھی تھا کہ ہم اللہ کے محبوب و برگزیدہ بندے ہیں : We are the chosen people of the Lord۔ چناچہ تم لوگ اپنی انہی خوش فہمیوں میں مگن رہے۔ اس مرحلے میں اگر کبھی توبہ کرنے اور روش تبدیل کرنے کا خیال تمہیں آیا بھی تو خوشنما آرزوئوں wishful thinkings کے تصور نے تمہارے ضمیر کو تھپک تھپک کر پھر سے سلا دیا۔ { حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ۔ } ”یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔“ یعنی شیطان لعین نے تم لوگوں کو اللہ کے نام پر دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے سورة لقمان میں ہم یہ تنبیہہ پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ۔ } ”تو دیکھو ! تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دنیا کی زندگی اور دیکھنا ! تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔“ زیر مطالعہ اس آیت میں بہت جامع انداز میں منافقت کے مدارج اور مراحل کے بارے میں بتادیا گیا ہے۔ مرض کا نقطہ آغاز مال و اولاد کی حد سے بڑھی ہوئی محبت سے ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انہماک کی وجہ سے انسان کے دل میں اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد کی محبت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں تَرَبَّصکی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایمان کے اندر شکوک و شبہات کے رخنے پڑجاتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہے جب نفاق اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر دل میں مستقل ڈیرے جما لیتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有