登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
59:24
هو الله الخالق الباري المصور له الاسماء الحسنى يسبح له ما في السماوات والارض وهو العزيز الحكيم ٢٤
هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَـٰلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٢٤
هُوَ
ٱللَّهُ
ٱلۡخَٰلِقُ
ٱلۡبَارِئُ
ٱلۡمُصَوِّرُۖ
لَهُ
ٱلۡأَسۡمَآءُ
ٱلۡحُسۡنَىٰۚ
يُسَبِّحُ
لَهُۥ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۖ
وَهُوَ
ٱلۡعَزِيزُ
ٱلۡحَكِيمُ
٢٤
他是真主,是创造者,是造化者,是赋形者,他有许多极美的称号,凡在天地间的,都赞颂他,他是万能的,是至睿的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
59:23至59:24节的经注
اللہ تعالیٰ کی صفات ٭٭

اس مالک رب معبود کے سوا اور کوئی ان اوصاف والا نہیں، تمام چیزوں کا تنہا وہی مالک و مختار ہے، ہر چیز کا ہیر پھیر کرنے والا، سب پر قبضہ اور تصرف رکھنے والا بھی وہی ہے، کوئی نہیں جو اس کی مزاحمت یا مدافعت کر سکے یا اسے ممانعت کر سکے، وہ قدوس ہے، یعنی طاہر ہے، مبارک ہے، ذاتی اور صفاتی نقصانات سے پاک ہے، تمام بلند مرتبہ فرشتے اور سب کی سب اعلیٰ مخلوق اس کی تسبیح و تقدیس میں علی الدوام مشغول ہے، کل عیبوں اور نقصانوں سے مبرا اور منزہ ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں، اپنے افعال میں بھی اس کی ذات ہر طرح کے نقصان سے پاک ہے، وہ «مومن» ہے یعنی تمام مخلوق کو اس نے اس بات سے بے خوف رکھا ہے کہ ان پر کسی طرح کا کسی وقت اپنی طرف سے ظلم ہو، اس نے یہ فرما کر کہ یہ حق ہے سب کو امن دے رکھا ہے، اپنے ایماندار بندوں کے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔

وہ «المهيمن» ہے یعنی اپنی تمام مخلوق کے اعمال کا ہر وقت یکساں طور شاہد ہے اور نگہبان ہے، جیسے فرمان ہے «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» [85-البروج:9] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے۔“

صفحہ نمبر9431

اور فرمان ہے «ثُمَّ اللَّـهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ» [10-یونس:46] ‏ ” اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال پر گواہ ہے“

اور جگہ فرمایا «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» [13-الرعد:33] ‏، مطلب یہ ہے کہ ” ہر نفس جو کچھ کر رہا ہے اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ “

وہ «عزیز» ہے ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے، کل مخلوق پر وہ غالب ہے پس اس کی عزت عظمت، جبروت کبریائی کی وجہ سے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا، وہ «جبار» اور «متکبر» ہے، جبریت اور کبر صرف اسی کے شایان شان ہے۔

صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو مجھ سے ان دونوں میں سے کسی کو چھیننا چاہے گا میں اسے عذاب کروں گا۔ [صحیح مسلم:2660] ‏

اپنی مخلوق کو جس چیز پر چاہے وہ رکھ سکتا ہے، کل کاموں کی اصلاح اسی کے ہاتھ ہے، وہ ہر برائی سے نفرت اور دوری رکھنے والا ہے، جو لوگ اپنی کم سمجھی کی وجہ سے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں وہ ان سب سے بیزار ہے، اس کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے، اللہ تعالیٰ خالق ہے یعنی مقدر مقرر کرنے والا، پھر باری ہے یعنی اسے جاری اور ظاہر کرنے والا، کوئی ایسا نہیں کہ جو تقدیر اور تنقید دونوں پر قادر ہو، جو چاہے اندازہ مقرر کرے اور پھر اسی کے مطابق اسے چلائے بھی، کبھی بھی اس میں فرق نہ آنے دے، بہت سے ترتیب دینے والے اور اندازہ کرنے والے ہیں، جو پھر اسے جاری کرنے اور اسی کے مطابق برابر جاری رکھنے پر قادر نہیں، تقدیر کے ساتھ ایجاد اور تنقید پر بھی قدرت رکھنے والی اللہ کی ہی ذات ہے، پس «خلق» سے مراد تقدیر اور «برء» سے مراد تنفیذ ہے۔

عرب میں یہ الفاظ ان معنوں میں برابر بطور مثال کے بھی مروج ہیں، اسی کی شان ہے کہ جس چیز کو جب جس طرح کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی طرح اسی صورت میں ہو جاتی ہے جیسے فرمان ہے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:8] ‏ ” جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دی۔ “ اسی لیے یہاں فرماتا ہے وہ مصور بےمثل ہے یعنی جس چیز کی ایجاد جس طرح کی چاہتا ہے کہ گزرتا ہے۔

صفحہ نمبر9432

پیارے پیارے بہترین اور بزرگ تر ناموں والا وہی ہے، سورۃ الاعراف میں اس جملہ کی تفسیر گزر چکی ہے، نیز وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جو بخاری مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم ایک سو نام ہیں جو انہیں شمار کر لے یاد رکھ لے وہ جنت میں داخل ہو گا وہ وتر ہے یعنی واحد ہے اور اکائی کو دوست رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6410] ‏

ترمذی میں ان ناموں کی صراحت بھی آئی ہے جو نام یہ ہیں۔ «هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ الرَّحْمَن الرَّحِيم الْمَلِك الْقُدُّوس السَّلَام الْمُؤْمِن الْمُهَيْمِن الْعَزِيز الْجَبَّار الْمُتَكَبِّر الْخَالِق الْبَارِئ الْمُصَوِّر الْغَفَّار الْقَهَّار الْوَهَّاب الرَّزَّاق الْفَتَّاح الْعَلِيم الْقَابِض الْبَاسِط الْخَافِض الرَّافِع الْمُعِزّ الْمُذِلّ السَّمِيع الْبَصِير الْحَكَم الْعَدْل اللَّطِيف الْخَبِير الْحَلِيم الْعَظِيم الْغَفُور الشَّكُور الْعَلِيّ الْكَبِير الْحَفِيظ الْمُقِيت الْحَسِيب الْجَلِيل الْكَرِيم الرَّقِيب الْمُجِيب الْوَاسِع الْحَكِيم الْوَدُود الْمَجِيد الْبَاعِث الشَّهِيد الْحَقّ الْوَكِيل الْقَوِيّ الْمَتِين الْوَلِيّ الْحَمِيد الْمُحْصِي الْمُبْدِئ الْمُعِيد الْمُحْيِي الْمُمِيت الْحَيّ الْقَيُّوم الْوَاجِد الْمَاجِد الْوَاحِد الصَّمَد الْقَادِر الْمُقْتَدِر الْمُقَدِّم الْمُؤَخِّر الْأَوَّل الْآخِر الظَّاهِر الْبَاطِن الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرّ التَّوَّاب الْمُنْتَقِم الْعَفُوّ الرَّءُوف مَالِك الْمُلْك ذُو الْجَلَال وَالْإِكْرَام الْمُقْسِط الْجَامِع الْغَنِيّ الْمُغْنِي الْمُعْطِي الْمَانِع الضَّارّ النَّافِع النُّور الْهَادِي الْبَدِيع الْبَاقِي الْوَارِث الرَّشِيد الصَّبُور» ۔ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں کچھ تقدیم تاخیر کمی زیادتی بھی ہے، الغرض ان تمام احادیث وغیرہ کا بیان پوری طرح سورۃ الاعراف میں گزر چکا ہے، اس لیے یہاں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے باقی سب کو دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی کل چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ‏ یعنی ” اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان میں جو مخلوق ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح حمد کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بردبار اور بخشش کرنے والا ہے۔“

وہ عزیز ہے اس کی حکمت والی سرکار اپنے احکام اور تقدیر کے تقدر میں ایسی نہیں کہ کسی طرح کی کمی نکالی جائے یا کوئی اعتراض قائم کیا جا سکے۔

صفحہ نمبر9433

مسند احمد کی حدیث میں ہے جو شخص صبح کو تین مرتبہ «أَعُوذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم مِنْ الشَّيْطَان الرَّجِيم» پڑھ کر سورۃ الحشر کے آخر کی (‏ان)‏ تین آیتوں «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [59-الحشر:22-24] ‏ کو پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے جو شام تک اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا مرتبہ پاتا ہے اور جو شخص ان کی تلاوت شام کے وقت کرے وہ بھی اسی حکم میں ہے۔ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2922،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الحشر کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9434
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有