登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
6:55
وكذالك نفصل الايات ولتستبين سبيل المجرمين ٥٥
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ ٱلْمُجْرِمِينَ ٥٥
وَكَذَٰلِكَ
نُفَصِّلُ
ٱلۡأٓيَٰتِ
وَلِتَسۡتَبِينَ
سَبِيلُ
ٱلۡمُجۡرِمِينَ
٥٥
我这样解释一切迹象,以便(真理昭著),而罪人的道路变成明白的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
6:55至6:59节的经注
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭

یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔

صفحہ نمبر2608

پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔

” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔

صفحہ نمبر2609

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (‏رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔‏“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔‏“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231] ‏

ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔

صفحہ نمبر2610

اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔

حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔‏“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] ‏ پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627] ‏

اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] ‏ تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50] ‏

صفحہ نمبر2611

پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔

«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟

جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ‏ ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔‏“

پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:] ‏

سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔

صفحہ نمبر2612
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有