登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
74:3
وربك فكبر ٣
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ٣
وَرَبَّكَ
فَكَبِّرۡ
٣
你应当颂扬你的主宰,
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

آیت 3{ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ } ”اور اپنے رب کو بڑا کرو !“ غور کیجیے ! رب کو بڑا کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ وہ تو اپنی ذات میں خود ہی سب سے بڑا ہے۔ ہم انسان اس کو بھلا کیا بڑا کریں گے ؟ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اس زمین میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی عملاً تسلیم نہیں کی جارہی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو محدود اختیار عطا فرمایا تھا اس کے بل پر اس نے اسی کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ظلم اور فساد کا بازار گرم ہوگیا ہے : { ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } الروم : 41 ”بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے ‘ لوگوں کے اعمال کے سبب“۔ چناچہ اب جو کوئی بھی اللہ کو اپنا الٰہ اور اپنا رب مانتا ہے ‘ اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پارٹی حزب اللہ کا ممبر اور اس کی فوج کا سپاہی بن کر لوگوں سے اس کی بڑائی کو منوانے اور اس کی کبریائی کو عملی طور پر دنیا میں نافذ کرنے کی جدوجہد میں اپنا تن من اور دھن کھپا دے ‘ تاکہ اللہ کی بات سب سے اونچی ہو : { وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِج } الانفال : 39 ”اور دین ُ کل کا کل اللہ کے لیے ہوجائے“۔ یہ ہے ”تکبیر ِرب“ یا رب کو بڑا کرنے کے مفہوم کا خلاصہ۔ گویا ان دو لفظوں میں حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد اور آپ ﷺ کے مشن کا پورا فلسفہ بیان کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ”تکبیر رب“ کی اصطلاح کی حیثیت ایک ایسی گٹھلی کی ہے جس میں سے اقامت ِدین ‘ غلبہ ٔ دین ‘ اظہارِ دین حق ‘ حکومت ِالٰہیہ وغیرہ اصطلاحات کی کو نپلیں پھوٹی ہیں۔ سورت کی ان ابتدائی تین آیات میں حضور ﷺ کی زندگی کے اس دور کی جھلک بھی نظر آتی ہے جب آپ ﷺ پر تفکر و تدبر بلکہ تشویش اور فکر مندی کا غلبہ تھا۔ غارِ حرا کے اندر پہلی وحی کا نزول آپ ﷺ کے لیے بالکل ایک نیا تجربہ تھا جس پر آپ ﷺ بجا طور پر فکر مند تھے۔ پھر ورقہ بن نوفل نے آپ ﷺ کے آئندہ حالات کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا۔ ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہ رض کے چچا زاد بھائی تھے۔ پہلی وحی کے واقعہ کے بعد حضرت خدیجہ رض حضور ﷺ کو خصوصی طور پر ان کے پاس لے کر گئیں۔ وہ صاحب بصیرت عیسائی راہب تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے غار حرا میں پیش آنے والے واقعہ کی تفصیل سننے کے بعد کہا کہ آپ ﷺ کے پاس وہی ناموس آیا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ حضور ﷺ نے ورقہ بن نوفل کی اس بات پر پریشانی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ کیا میری قوم مجھییہاں سے نکال دے گی ؟ آپ ﷺ کا مطلب تھا کہ وہ سب لوگ تو مجھ سے بیحد محبت کرتے ہیں ‘ مجھے صادق اور امین مانتے ہیں ‘ اور میرے قدموں میں اپنی نگاہیں بچھاتے ہیں ‘ بھلا وہ مجھے کیوں شہر بدر کریں گے ؟ اس پر ورقہ بن نوفل نے جواب دیا کہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی یہ ذمہ داری جس کسی کو بھی ملی اس کی قوم اس کی دشمن بن گئی ‘ ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ حضور ﷺ سے اس ملاقات کے بعد جلد ہی ورقہ بن نوفل کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعہ سے حضور ﷺ کی نبوت اور رسالت کا فرق بھی واضح ہوجاتا ہے۔ ورقہ بن نوفل نے حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق تو کردی تھی لیکن اس وقت تک حضور ﷺ کو اپنی دعوت کی تبلیغ کا حکم نہیں ملا تھا۔ یعنی اس وقت تک صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا تھا ‘ رسالت کی ذمہ داری ابھی آپ ﷺ کو نہیں ملی تھی۔ اسی لیے حضور ﷺ نے انہیں ایمان کی دعوت بھی نہیں دی اور اسی لیے ورقہ بن نوفل کا شمار صحابہ میں بھی نہیں ہوتا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有