登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
78:39
ذالك اليوم الحق فمن شاء اتخذ الى ربه مابا ٣٩
ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا ٣٩
ذَٰلِكَ
ٱلۡيَوۡمُ
ٱلۡحَقُّۖ
فَمَن
شَآءَ
ٱتَّخَذَ
إِلَىٰ
رَبِّهِۦ
مَـَٔابًا
٣٩
那是必有的日子,谁意欲,谁就择取一个向他的主的归宿。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
78:37至78:40节的经注
روح الامین علیہ السلام ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ ” آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمان ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا “۔

جیسے اور جگہ ہے «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ یعنی ” کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لے جا سکے “۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ» [11-ھود:105] ‏ ” جس دن وه آ جائے گا کوئی بھی بلا اجازت اس سے بات نہ کر سکے گا “۔

روح سے مراد یا تو کل انسانوں کی روحیں ہیں یا کل انسان ہیں یا ایک قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان، یا مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، جبرائیل علیہ السلام کو اور جگہ بھی «روح» کہا گیا ہے، ارشاد ہے «‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [‏26-الشعراء:194،193] ‏ ” اسے امانت دار «روح» نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے “، یہاں مراد «روح» سے یقیناً جبرائیل علیہ السلام ہیں۔

10219

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں، یا مراد «روح» سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے «‏وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» ‏ [42-الشورى:52] ‏ یعنی ” ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری “، یہاں «روح» سے مراد قرآن ہے۔

چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے۔‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں، کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔‏“ لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:22/30:ضعیف] ‏

طبرانی میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانك حَيْثُ كُنْتَ» اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے“ [طبرانی کبیر:11476،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہو، اور وہ بھی بنی اسرائیل سے لیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ سب اقوال وارد کئے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں «روح» سے مراد کل انسان ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10220

پھر فرمایا ” صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمن اجازت دے “۔ جیسے فرمایا «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [11-ھود:105] ‏ یعنی ” جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا “۔

صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا۔ [صحیح بخاری:806] ‏

پھر فرمایا کہ ” اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو “، سب سے زیادہ حق بات «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔

پھر فرمایا کہ ” یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہیئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا» [18-الکھف:49] ‏ ” جو کیا اسے سامنے پا لیں گے “ اور جگہ ہے، «‏يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» ‏ [75-القيامة:13] ‏ ” ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا “۔

اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ وہ مٹی ہو جائیں گے، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النباء کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـهِ وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيْقُ وَالْعِصْمَة»

10221
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有