登入
超越斋月!
学到更多
登入
登入
选择语言
7:205
واذكر ربك في نفسك تضرعا وخيفة ودون الجهر من القول بالغدو والاصال ولا تكن من الغافلين ٢٠٥
وَٱذْكُر رَّبَّكَ فِى نَفْسِكَ تَضَرُّعًۭا وَخِيفَةًۭ وَدُونَ ٱلْجَهْرِ مِنَ ٱلْقَوْلِ بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْـَٔاصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْغَـٰفِلِينَ ٢٠٥
وَٱذۡكُر
رَّبَّكَ
فِي
نَفۡسِكَ
تَضَرُّعٗا
وَخِيفَةٗ
وَدُونَ
ٱلۡجَهۡرِ
مِنَ
ٱلۡقَوۡلِ
بِٱلۡغُدُوِّ
وَٱلۡأٓصَالِ
وَلَا
تَكُن
مِّنَ
ٱلۡغَٰفِلِينَ
٢٠٥
你当朝夕恭敬而恐惧地记念你的主,应当低声赞颂他,你不要疏忽。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
7:205至7:206节的经注
اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے ٭٭

اللہ تعالیٰ یہاں حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کو بکثرت یاد کر۔ اور جگہ بھی ہے «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» [50-ق:39] ‏ یعنی ” اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو، سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ “

یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے۔ «غدو» کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو۔ «اصال» جمع ہے «اصیل» کی، جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔

حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں، اپنی زبان سے کرتے رہو۔ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کر لیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» [2-البقرة:186] ‏ ” جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے، قبول فرما لیا کرتا ہوں۔ “

بخاری و مسلم میں ہے کہ لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر ترس کھاؤ۔ تم کسی بہرے کو، یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکارتے ہو، وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے۔ تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے، اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے۔ [صحیح بخاری:6610] ‏

ہو سکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:110] ‏ یعنی ” اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔ “ سے ہے۔

صفحہ نمبر3197

مشرکین قرآن سن کر قرآن کو، جبرئیل کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خود اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ نہ تو آپ اس قدر بلند آواز سے پڑھیں کہ مشرکین چڑ کر بکنے جھکنے لگیں، نہ اس قدر پست آواز سے پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ اس کے درمیان کا راستہ ڈھونڈ نکالیں یعنی نہ بہت بلند، نہ بہت آہستہ۔ یہاں بھی فرمایا کہ بہت بلند آواز سے نہ ہو اور غافل نہ بننا۔

امام ابن جریر اور ان سے پہلے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا، اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔ لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور مراد اس سے یا تو نماز میں ہے، یا نماز اور خطبے میں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر، پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ اس لیے مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (‏ان دونوں بزرگوں کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے اور دونوں آیات کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»)

صفحہ نمبر3198

اسی لیے فرشتوں کی تعریف بیان ہوئی کہ وہ دن رات اللہ کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں، بالکل تھکتے نہیں۔ پس فرماتا ہے کہ جو تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ ان کا ذکر اس لیے کیا کہ اس کثرت عبادت و اطاعت میں ان کی اقتدا کی جائے، اسی لیے ہمارے لیے بھی شریعت نے سجدہ مقرر کیا، فرشتے بھی سجدہ کرتے رہتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے: تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ [صحیح مسلم:430] ‏

اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے۔ پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو سجدے کی آیات میں شمار کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه:1056، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

الحمدللہ! تفسیر سورۃ الاعراف ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر3199
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
阅读、聆听、探索并思考《古兰经》

Quran.com 是一个值得信赖的平台,全球数百万人使用它来阅读、搜索、聆听和思考多种语言的《古兰经》。它提供翻译、注释、诵读、逐字翻译以及深入研究的工具,让每个人都能接触到《古兰经》。

作为一家名为“施舍之家”(Sadaqah Jariyah)的机构,Quran.com 致力于帮助人们与《古兰经》建立更深层次的联系。在 501(c)(3) 非营利组织 Quran.Foundation 的支持下,Quran.com 不断发展壮大,成为所有人的免费宝贵资源。Alhamdulillah(真主安拉)

导航
首页
在线听古兰经
朗诵者
关于我们
开发者
产品更新
反馈问题
帮助
捐
我们的项目
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation 拥有、管理或赞助的非营利项目
热门链接

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

网站地图隐私条款和条件
© 2026年 Quran.com. 版权所有